آغازِ کلام
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح ایک اور مسلمان تاجر نے عبداللہ رحمی صاحب کو اس مقصد کے لئے دو لاکھ روپیہ دینے کا وعدہ کیا کہ الرسالتھن کی دعوت کتابوں کا ترجمہ کناڑ ازبان اور جنوبی ہند کی دوسری زبانوں میں کیا جائے۔ مگر انہیں کسی اسلام پسند نے بہکایا اور انھوں نے وعدہ پورا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس طرح کے واقعات جگہ جگہ پیش آرہے ہیں۔ پچھلے ۳۰ سال کے دوران بہت سے لوگوں نے اور بہت سی جماعتوں نے میری مخالفت کی ہے۔ مگر میں نے آج تک اپنے کسی مخالف کی ضد میں اس قسم کی پست حرکت نہیں کی۔ میں ہمیشہ علمی تنقید کرتا ہوں۔ کسی کی کردار کشی یا کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے سفلی حرکتیں کرنا میرے مزاج کے سراسر خلاف ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ جو لوگ اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں وہ کتنے زیادہ پست لوگ ہوں گے۔ وہ اسلام سے آخری حد تک دور ہیں، خواہ وہ اپنی اسلام پسندی کا کتنا ہی زیادہ اشتہار کریں۔ شریعت کے مطابق، اختلاف کا اظہار علمی تنقید کی صورت میں ہونا چاہئے نہ کہ الزام تراشی اور کینہ پن کی صورت میں۔ یکم فروری ۱۹۹۳ لاہور کے اخبار نوائے وقت ( ۲۵ جنوری ۱۹۹۳) کے مطابق، پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بتایا گیا کہ " بھارت ساٹھ ہزار کشمیری مسلمانوں کو شہید کر چکا ہے: اسی طرح نوائے وقت کے شمارہ ۲۴ جنوری کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ : "کشمیر کا اہم مسئلہ معاشی مسئلہ ہے۔ کشمیر کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ کشمیر کی صنعت مثلاً سیاحت کی صنعت اور پھلوں کی صنعت تباہ و برباد ہو چکی ہے۔ اس کا متبادل بھی نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس کے لئے فنڈز موجود ہیں تاکہ لوگوں کے روزمرہ کے مسائل اور ضروریات پوری ہو سکیں۔ یہ انتہائی اہم اور ہنگامی مسئلہ ہے "صفحہ ۲ اس واضح تباہی کے باوجود پاکستان میں ہر لکھنے اور بولنے والا کشمیر کی جنگ کو تیز تر کرنے کا نعرہ لگا رہا ہے۔ کشمیر میں خود پاکستان نے ۱۹۸۹ میں مسلح جنگ شروع کرائی۔ یہ جنگ اسلام کے نام پر لڑی جارہی ہے۔ اسلام کے یہ جھوٹے دعویدار بتائیں کہ اسلام کے دور اول میں جو نمرود کا دور ہے، وہ کون سی مثال ہے جب کہ اس تباہ کن انجام کے باوجود جنگ جاری رکھی گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader