آغازِ کلام
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
نوائے وقت ( ۲۳ جنوری ۱۹۹۳ء) کے ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر محمد علی جناح جب ۱۹۱۶ء میں مسلم لیگ کے جلسہ کی صدارت کے لئے لکھنؤ آئے تو اُن کی شان میں مولاناسید سلیمان ندوی نے ایک نظم پڑھی۔ اس کا ایک شعر یہ تھا : ہر مریض قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید ڈاکٹر اس کا اگر محمد علی جینارہا ۲۴ - ۲۵ مئی ۱۹۲۴ کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ جلسہ تھا۔ اس کی صدارت کے لئے مسٹر جناح لاہور آئے۔ اس موقع پر ۲۵ مئی کو انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور کے ہال میں ایک لیکچر دیا۔ مسٹر جناح جب کالج کے حبیبیہ ہال میں داخل ہوتے تو ایک صاحب نے بلند آواز سے یہ شعر پڑھا : آتی نہیں نظر میں کوئی صورت فلاح شاید بتائیں راہ محمد علی جناح مسٹر محمد علی جناح نے اپنی تقریر بتائی۔ قوم نے بہت بڑی تعداد میں اس کی تائید کر کے پاکستان بنوایا۔ قوم کو یہ حل آنا پسند آیا کہ جناح صاحب " قائد اعظم " کے جانے لگے۔ مگر برصغیر ہند کے مسلمانوں کے مسئلہ کا حل ہونا تو درکنار، وہ اور زیادہ بڑا گیا۔ یہی موجودہ زمانہ کے تمام مسلم رہنمائوں کا حال ہے۔ شخصی طور پر ایک قائد اعظم بن رہا ہے۔ مگر مجموعی طور پر مسلمان ملت اعظم نہ بن سکے۔ ۳ فروری ۱۹۹۳ جامعہ ملیہ سے ایم اے (اسلامک اسٹڈیز) کے تین طلبہ ملاقات کے لئے آئے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ آپ مسلمانوں کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ ہندوئوں کا جلوس خواہ مسجد کے سامنے باجا بجائے یا مسلم محلہ سے نعرہ لگاتا ہوا گزرے وہ بہرحال ان سے اعتراض کریں اور کوئی روک ٹوک نہ کریں۔ آپ ایسا کیوں کہتے ہیں جب کہ اسلام میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ برائی کو روکو۔ آخر ہم برائی کو کیوں نہ روکیں۔ میں نے کہا کہ اسلام میں برائی کو روکنے کا حکم دیا گیا ہے، یہ حکم تو نہیں دیا گیا ہے کہ برائی کو بڑھاؤ۔ آپ لوگ تو برائی کو بڑھانے کا کام کر رہے ہیں۔ مسلمان جب نعرہ یا باجا کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader