Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 208

By Maulana Wahiduddin Khan

روکتے ہیں تو اس کا نتیجہ کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نعرہ اور باجا خونیں فساد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ برائی کو بڑھانا ہے نہ کہ برائی کو مٹانا۔ اس ملک میں ہندوئوں کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ نہایت منفی رہا ہے۔ اس روش کے جواز کے لئے مسلمان عام طور پر اس آیت کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اہلِ ایمان کے ساتھ دشمنی میں تم سب سے بڑھ کر یہود اور مشرکین کو پائو گے اور اہلِ ایمان کے ساتھ دوستی میں تم سب سے زیادہ ان لوگوں کو پائو گے جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں (المائدہ ۸۲)۔ یہ حوالہ نہایت غلط ہے۔ اس آیت میں الذین اشرکوا سے مراد عمومی معنوں میں قوم مشرک نہیں ہے بلکہ وہ لوگ ہیں جو بے لچک دعوتی عمل کے باوجود شرک پر مصر ہے۔ ایک لاکھ سے اوپر جو صحابہ تھے وہ سب اسی قوم مشرک ہی سے نکل کر تو آئے تھے۔ پھر ساری مشرک قوم کیوں کر اس سے مراد ہو سکتی ہے۔ یہ آیت صلح حدیبیہ کے بعد اتری ہے۔ تقریباً ۲۰ سال دعوتی عمل کے نتیجہ میں مشرکین کی قوم میں سے بہت سے لوگوں نے نکل کر اسلام قبول کر لیا۔ یہاں تک کہ حجتہ الوداع کے وقت ان کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر ہو گئی۔ حدیث کے الفاظ میں، جب ان کے تمام خیار اسلام میں داخل ہو گئے اور ان میں صرف غیر خیار رہ گئے تو ان کے باقی ماندہ لوگوں کے بارہ میں یہ آیت اتری۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے پھل کا تمام رس نکال لیا جائے اور اس کے بعد کہا جائے کہ اب تو جو ہے وہ صرف چھلکا ہے۔ اگراس سے قومی مفہوم مراد ہوتا تو شروع ہی میں یہ آیت اترتی کہ مشرکین تو بدی دشمن اسلام ہیں۔ تم صرف نصاریٰ کے اوپر دعوتی کام کرو۔ مسلمانوں کو اس آیت کا حوالہ دینے کا حق اس وقت ہے جب کہ وہ پیغمبر کے انداز کی دعوتی مہم چلائیں اور اس کو کم از کم ۲۰ سال تک جاری رکھیں۔ اس پیغمبرانہ دعوتی عمل کے نتیجہ میں موجودہ مشرکین کے تمام بہترین افراد نکل کر توحید کے دائرہ میں آجائیں۔ اس کے بعد جو ناکارہ افراد باقی رہ جائیں ان پر مذکورہ آیت کا اطلاق ہوگا۔ قرآن میں جہاں اس قسم کی آیتیں آئی ہیں ان کو دعوت سے الگ کر کے سمجھا نہیں جاسکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page