Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے بادشاہت کا دور چلا آ رہا تھا۔ بادشاہ کا اثر لوگوں کے اوپر اتنا زیادہ ہوا کرتا تھا کہ یہ مثل بن گئی النّاس علی دین ملوکھم (لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش انھیں حالات میں ہوئی۔ مگر آپ اس مثل سے متاثر نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس آپ نے فرمایا: کما تکونون کذالک یبدل علیکم ( جیسے تم ہوگے ویسے ہی تمھارے حکمران ہوں گے) گویا عوامی مثل تو یہ تھی کہ جیسے بادشاہ ویسے عوام۔ مگر آپ نے فرمایا کہ جیسے عوام ویسے بادشاہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول گویا دور بادشاہت میں دور جمہوریت کی پیشگوئی ہے۔ اس اعتبار سے یہ حدیث دلائل نبوت میں سے ہے۔ کیوں کہ چودہ سو سال پہلے خدا کے پیغمبر کے سوا کوئی نہیں جان سکتا تھا کہ مستقبل میں سیاست اس طرح بدلے گی کہ شاہی سیاست کے بجائے عوامی سیاست اس کی جگہ لے لے گی۔ ۶ فروری ۱۹۹۳ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ إِذا عمل احدکم عملا أن یتقنه (اللہ کو یہ پسند ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جب ایک کام کرے تو وہ اس کو محکُم انداز سے کرے) اسی بات کو علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اس طرح فرمایا : ان قیمۃ المرء ما یحسن ۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں : قیمۃ المرء ما یحسن ۔ یعنی آدمی کی قدر و قیمت اس کی حسن کار کردگی کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ انسانوں کی دو قسمیں ہیں ـــــ مفاد پرست انسان اور با اصول انسان۔ مفاد پرست انسان کسی کام کو صرف اس وقت بہتر طور پر انجام دیتا ہے جبکہ اس سے اس کا ذاتی مفاد وابستہ ہو۔ جس کام میں ذاتی فائدہ کا پہلو نہ ہو اس کو وہ بس سرسری طور پرکے چھوڑ دیتا ہے۔ مگر با اصول انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ با اصول انسان جو کام بھی کرتا ہے اس کو وہ ہمیشہ بہتر طور پر ہی انجام دیتا ہے خواہ اس میں اس کا ذاتی مفاد ہو یا اس کا ذاتی مفاد نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page