Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ایک پیس مارچ میں شریک ہوا۔ یہ قافلہ دہلی ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوا، اور لال قلعہ پر ختم ہوا۔ ہم لوگ ایک کھلی 'رتھ' میں بٹھائے گئے تھے اور اس کے چاروں طرف بے شمار لوگوں کا ہجوم پر جوش نعرہ لگا رہا تھا : ایک بنو نیک بنو، ایک بنو نیک بنو۔ اس قسم کے نعرے پچھلے سوسال سے لگائے جا رہے ہیں۔ خطرناک میں ابھی تک وہ سمجھ نہ بن سکا جس میں لوگ ایک اور نیک بن کر رہ سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق نعرہ بازی سے نہیں ہے بلکہ مزاج سازی سے ہے۔ مزاج سازی کا کام لوگوں کو دیر طلب معلوم ہوتا ہے اس لئے کوئی اس کے لئے محنت نہیں کرتا۔ حالاں کہ سو سال تک نعرہ بازی کے بجائے اگر صرف ۲۵ سال تک واقعی معنوں میں مزاج سازی کی جاتی تو اب تک "ایک بنو اور نیک بنو" کا مقصد حاصل ہو گیا ہوتا۔ ۸ فروری ۱۹۹۳ آج جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے کانفرنس ہال میں تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر بشمبر ناتھ پانڈے نے ۱۹۳۷ سے پہلے کے کئی واقعات سنائے۔ ایک واقعہ یہ تھا کہ ۱۸۹۶ میں چاندنی چوک کے ایک مندر میں کسی نے گائے کا سر کاٹ کر پھینک دیا۔ یہ خبر مشہور ہوئی تو ہزاروں ہندو ہتھیار لے کر سڑکوں پر نکل آئے۔ ایسا معلوم ہونے لگا کہ ہند و مسلم فساد ہو جائے گا۔ تمام لوگ سخت پہرے ہوئے تھے۔ حکیم اجمل خاں کا مطب قریب ہی میں تھا۔ ان کو معلوم ہوا تو وہ ننگے پاؤں نکل کر بھاگے وہ وہاں پہنچے جہاں مشتعل ہندوؤں کا مجمع اکٹھا تھا۔ ان میں سے بہت سے لوگ حکیم اجمل خاں سے اچھی طرح واقف تھے۔ حکیم اجمل خاں دونوں ہاتھ جوڑ کر مجمع کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ کل رات معلوم نہیں کون سا شیطان میرے دماغ میں گھس گیا۔ اور میں نے ہی گائے کا یہ سر لا کر اس مندر میں ڈال دیا۔ اب میں آپ کے سامنے حاضر ہوں۔ آپ لوگ میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیجیئے مگر خدا کے لئے قوم کے ٹکڑے نہ کیجئے۔ لوگوں کے دلوں میں حکیم اجمل خاں کی بہت زیادہ عزت تھی۔ چنانچہ یہ سن کر تمام لوگ ٹھنڈے ہو گئے۔ ہر ایک خود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page