Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوۓ۔ ان سے گفتگو ہوئی تو انھوں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ ہمارے پاس فنڈ نہیں ہے کہ ہم آپ کو آپ کی رقم دے سکیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ مجھے دونوں کا کرایہ دار بنا دیں تو میں اپنی رقم کا مطالبہ آپ سے نہیں کروں گا۔ وہ بخوشی اس پر راضی ہو گئے۔ اور بات عدہ طور پر میری کرایہ داری قائم ہو گئی۔ اس وقت سے آج تک میں ہر ماہ رسید پر کرایہ ادا کر رہا ہوں، جمیعۃ علماء کے کسی ذمہ دار نے اس دوران کبھی مجھ سے نہ کوئی اپیل کی اور نہ یہ مطالبہ کیا کہ تم جمیعۃ بلڈنگ کو چھوڑ دو۔ ۴ فروری ۱۹۹۲ بمبئی کی بعض مسجدیں مصروف سڑکوں کے کنارے واقع ہیں۔ جمعہ کے دن نمازی اتنے زیادہ جمع ہو جاتے ہیں کہ سڑکوں پر صفیں قائم کی جاتی ہیں۔ اور دیر تک دونوں طرف ٹریفک رکھا رہتا ہے۔ اس پر بمبئی کے ہندوؤں کو اعتراض ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ سڑک پر نماز پڑھنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ مگر مسلمانوں نے اس کو اسلامی وقار کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ بمبئی کے ایک مسلمان نے اس کی بابت مجھ سے سوال کیا۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ نے تو اماطۃ الأذى عن الطريق کو ایمان کا ایک تقاضا بتایا ہے۔ اور آپ لوگوں نے بطور خود ایک ایادین دریافت کیا ہے جس میں است امۃ الاذى علی الطریق ایمان کا تقاضا بن گیا ہے۔ کیسا عجیب فرق ہے آپ لوگوں کے دین میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں۔ ۵ فروری ۱۹۹۳ اسٹیشن (۵ فروری) میں لکھنؤ کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس کے لکھنے والے موہن ساہیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ مولانا علی میاں اور لکھنؤ کے دوسرے مسلم لیڈروں کا خیال ہے کہ کمیونٹی کے سیکولر لوگوں کو جوڑا جائے ۔ اور ان کے ذریعہ الودھیا شو کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انڈیا کے مسلم لیڈر پچھلے پچاس سال سے اس بات کو دہراتے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہندوؤں میں کچھ سیکولر لوگ ہیں اور کچھ غیر سیکولر۔ سیکولر لوگوں کو ساتھ لے کر، ہم اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ تقسیم بنیادی طور پر غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page