آغازِ کلام
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
حکیم صاحب کے سامنے جھک گیا۔ ایک ہندو لالہ نے کہا کہ حکیم صاحب ، ہم کو چھپا کیجئے۔ آپ کے دماغ میں شیطان نہیں گھسا تھا ، ہمارے ہی دماغ میں شیطان گھس گیا تھا۔ اس کے بعد حکیم اجمل خاں نے ایک لیڈر سے کہا کہ لالہ جی ، لگائے کا سر کسی گڑھے میں پھینکوا دیجئے اور مندر کو گنگا جل سے دھو دیجئے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ قوم کا درد کیا چیز ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے کے مسلم لیڈروں میں یہ درد موجود تھا۔ آج جو لوگ مسلمانوں کی لیڈری کے دعویدار ہیں ، وہ اس درد سے خالی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان نام نہاد لیڈروں کے ایسے واقعات سننے میں نہیں آتے۔ آج کے لیڈر مسلمانوں کو صرف نقلی تقریریں دے رہے ہیں جب کہ پہلے کے لیڈر قوم کو اپنا دل دئے ہوئے تھے۔ ۹ فروری ۱۹۹۳ ہندی روز نامہ نو بھارت ٹائمس کے نمائندہ مسٹر منورنجن بھارتی نے دلی کے بارے میں میرا انٹرویو لیا۔ میں دہلی میں ، ۱۹۶۷ سے رہتا ہوں۔ اس مدت میں یہاں ہر قسم کا پولیشن اتنا بڑھ گیا کہ اب دہلی رہنے کے قابل نظر نہیں آتی۔ لوگ دن بدن اتنے خود غرض ہوتے جا رہے ہیں کہ انھیں اپنے ذاتی فائدے کے سوا کسی اور چیز کا کوئی دھیان ہی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ دہلی کی کن جگہوں پر جانا پسند کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ پہلے تو یہاں کے پارک ، مثلث شاستی ون ، لودھی گارڈن وغیرہ جاتا تھا۔ مگر اب بڑھتے ہوئے پлюشن کی وجہ سے کہیں جانے کا جی نہیں چاہتا۔ اب میری دلچسپی کا مقام صرف یہاں کی لائبریریاں ہیں۔ انٹرویو کافی لمبا تھا۔ آخر میں انھوں نے پوچھا کہ دہلی کے ناگرکوں کے لئے آپ کا ندیش کیا ہوگا۔ میں نے کہا ۔ جس طرح آپ اپنا گھر بناتے ہیں ، اسی طرح آپ پوری دلی کو بنائیے۔ ۱۰ فروری ۱۹۹۳ مسلمان داعی ہیں اور غیر مسلم ان کے مدعو۔ مسلمانوں کے اوپر غیر مسلموں کا یہ حق ہے کہ وہ ان کو دین حق کا پیغام پہنچائیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے ، اپنے نااہل لیڈروں کی رہنمائی میں ، ان غیر مسلموں سے سیاسی لڑائی چھیڑ دی، اس کے بعد غیر مسلم قوموں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader