آغازِ کلام
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
نے جوابی کارروائیاں شروع کیں تو مسلمانوں کے علماء اور دانشوروں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ لوگ سب کے سب اسلام دشمن ہیں۔ مسلم دنیا میں شاید میں واحد شخص ہوں جو مسلمانوں کو یہ نصیحت کر رہا ہے کہ غیر مسلموں سے رقابتانہ تعلق ختم کر دو اور ان سے داعیانہ تعلق قائم کرو۔ مگر مسلمانوں کا مزاج اتنا بگڑ گیا ہے کہ میری بات پر سوچنے کے بجائے ہر طرف یہ کہہ کر مجھ کو بدنام کیا جا رہا ہے کہ وہ تو اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ہیں ، ان کی مت سنو۔ ۱۱ فروری ۱۹۹۳ ایک مسلمان شاعر نے کہا کہ ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست۔ مسلمان صدیوں سے ساری دنیا میں اسی احساس کو لے کر جی رہے ہیں۔ ان میں کوئی یہ کہنے والا نہیں اٹھا کہ ــ ہر انسان میرا اپنا ہے ، کیوں کہ وہ میرے خدا کا پیدا کیا ہوا ہے۔ ان دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ پہلے نظریہ کے تحت دوسروں کے مقابلہ میں برتری کا احساس ابھرتا ہے اور دوسرے احساس کے تحت برابری کا۔ پہلے احساس کے تحت دوسروں سے دوری پیدا ہوتی ہے اور دوسرے احساس کے تحت قربت۔ ۱۲ فروری ۱۹۹۳ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مسلمان لڑکے اور ایک مسلمان لڑکی سے ملتا ہوں۔ دونوں میاں بیوی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ابھی ہم کچھ نہیں کرتے۔ ابھی ہم صرف پڑھ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگوں کا خرچ کس طرح چلتا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم کو ہندوستانی حکومت ماہانہ رقم دیتی ہے جس سے ہمارا خرچ پورا ہو جاتا ہے۔ پھر اسی خواب میں میری ملاقات حیدر آباد کے مولانا سید اکبر الدین قامی سے ہوتی ہے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ دیکھیئے، ہندوستان کتنا اچھا ملک ہے۔ یہ لوگ پڑھ رہے ہیں اور ان کا سارا خرچ انھیں حکومت کی طرف سے مل رہا ہے۔ کتنا اچھا ہے ہندوستان۔ اس کو ہندوستان نہ کہیئے بلکہ ہمارا ہندوستان کہیئے۔ یہ بات میں جوش و مسرت کے جذبہ سے کہہ رہا ہوں۔ اس خواب کی تعبیر غالباً یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے ہر قسم کے مواقع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader