Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

موجود ہیں۔ مسلمان یہاں محنت کے ساتھ پڑے ہیں۔ پھر یہی ہندوستان ان کے لیے اپنا ہندوستان بن جائے گا، جو کہ ابھی ان کو غیر ہندوستان دکھائی دے رہا ہے۔ ندر وہ لکھنؤ سے نکلنے والے جریدہ تعمیر حیات ( ۲۵ جنوری ۱۹۹۳) میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کی ایک تقریر " اسلام کے مردانِ بارفا " کے عنوان سے چھپی ہے۔ اس میں مولانا نے "اللہ کے لیے سرکٹانے" کو خوب گلوریفائی کیا ہے۔ مجھے ان علماء کرام پر تعجب ہے۔ وہ خود تو اپنی ایک انگلی بھی کٹانے کے لیے تیار نہیں ہیں اور دوسروں کے سامنے سر کٹانے کا پرجوش وعظ کہہ رہے ہیں۔ یہی وہ تضاد ہے جس کی نشاندہی علماء یہود میں کرتے ہوئے حضرت مسیح نے کہا تھا : وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔ وہ ایسے بھاری بوجھ جن کو اٹھانا مشکل ہے باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں مگر آپ ان کو اپنی انگلی سے بھی ہلانا نہیں چاہتے۔ (متی ۲۳ : ۴) مزید یہ کہ یہ تصور دین سراسر بے بنیاد ہے کہ نتیجہ کی پروا کئے بغیر بس اپنا سر کٹا دو۔ اگر یہی سچا دین ہو تو اس کی سب سے پہلی خلاف ورزی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی۔ کیوں کہ مکہ میں جب قریش کے لوگوں نے تلوار لے کر آپ کے مکان کو گھیر لیا تو آپ ان سے لڑنے کے لیے کھڑے نہیں ہوئے بلکہ خاموشی کے ساتھ عقبی دروازہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے۔ ۱۴ فروری ۱۹۹۳ قرآن میں کہیں بھی مطلق طور پر یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ اللہ کے لیے لڑ کر مر جاؤ۔ اس کے برعکس یہ فرمایا کہ اللہ کے لئے صبر کرو (ولربک فاصبر )، قرآن میں پیغمبر اسلام کو رحمتہ للعالمین کہا گیا ہے ، قرآن میں کہیں بھی آپ کو سیف اللہ علی العالمین نہیں فرمایا گیا ہے۔ قرآن میں الصلح خير کی آیت ہے مگر قرآن میں الحرب خیر کے مضمون کی کوئی آیت موجود نہیں۔ قرآن میں ہے کہ انما يوفى الصابرون اجرہم بغير حساب، مگر یہ کہیں نہیں فرمایا کہ انما يوفى المقاتلون اجرہم بغير حساب۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی کلچر رحمت کلچر ہے۔ وہ گن کلچر نہیں۔ اسلام انسانوں کے درمیان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page