آغازِ کلام
Urdu book, p. 214
By Maulana Wahiduddin Khan
معتدل تعلقات قائم کرنے کے لئے یک طرفہ ایڈ جسٹمنٹ کی تعلیم دیتا ہے جس کی ایک مثال صلح حدیبیہ ہے۔ اہل ایمان کا کام نہ سرکاٹنا ہے اور نہ سر کٹانا۔ اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ دنیا میں خدا کے متواضع بندے بن کر رہیں۔ اور برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کر کے لوگوں کے دلوں میں اللہ کی معرفت کے چشمے جاری کریں۔ ۵ فروری ۱۹۹۳ تقابل سے باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ اس لئے عربی مثل ہے کہ : تعرف الاشیاء باضدادھا۔ قرآن کی تعلیمات کو سمجھنے کے لئے اس حکمت کا استعمال بہت مفید ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے کہ وما ارسلناك الا رحمة للعالمين، یہ نہیں فرمایا کہ وما أرسلناك الا حاكما على العالمين۔ قرآن میں ہے کہ الصلح خير، یہ نہیں فرمایا کہ العرب خير۔ قرآن میں ہے کہ انما يوفى الصابرون اجرهم بغیر حساب، یہ نہیں فرمایا کہ انما يوفى المقاتلون اجرهم بغیر حساب۔ پہلی آیت اتری تو فرمایا کہ اقرأ باسم ربك الذي خلق ، یہ نہیں فرمایا کہ طهر الكعبة من الاصنام۔ قرآن میں ہے کہ وجاهدهم به (بالقرآن) جهادا كبيرا ، یہ نہیں فرمایا کہ وجاهدهم بالسيف جهادا كبيراً۔ قرآن میں ہے کہ واعرض عن الجاهلين ، یہ نہیں فرمایا کہ وقاتل عن الجاهلين قرآن کی آیتوں کا اس طرح تقابلی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دونوں میں سے کون سا رویہ اللہ تعالی کو مطلوب ہے اور کون سا غیر مطلوب۔ ۱۶ فروری ۱۹۹۳ مسٹر عظیم الشان حیدر سے ملاقات ہوئی۔ وہ بہار میں پیدا ہوئے ۔ ۱۹۴۷ میں تقسیم کے بعد وہ ڈھاکہ چلے گئے۔ اس کے بعد کراچی گئے۔ اب وہ پاکستان کے پاسپورٹ پر کویت میں رہ رہے ہیں۔ مگر وہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں۔ وہ دوبارہ اپنے آبائی وطن (ہندوستان) واپس آنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے وہ دہلی آئے۔ مگر قانونی مشکلات کی بنا پر بظاہر ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader