آغازِ کلام
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
تقسیم کی تحریک نے ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے مقام سے اکھاڑ دیا۔ 1947 میں جو لوگ ہندوستان چھوڑ کر پاکستان گئے۔ وہ وہاں مطمئن نہ ہو سکے۔ اور جو مسلمان ہندوستان میں ٹھہرے وہ یہاں اسی طرح رہے جیسے کہ وہ کسی غیر ملک میں رہ رہے ہوں۔ دونوں جگہ کے مسلمان بے وطنی کے احساس میں جیتے رہے۔ اقبال نے تقسیم کی تجویز سوچی۔ مسٹر محمد علی جناح نے اس کو چلایا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس کی تائید کی۔ اس طرح کے بہت سے مسلمان جن کے نام اس تحریک سے وابستہ ہیں۔ میں حیران ہوں کہ ان لوگوں نے کیسے تقسیم کو برصغیر کے مسلمانوں کے مسئلہ کا حل سمجھا۔ حالانکہ وہ صرف ایک لغو تجویز تھی جس کا تعلق نہ اسلام سے تھا اور نہ عقل سے۔ ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء قدیم عربی شاعر کا شعر ہے کہ تم یا تو عزت کے ساتھ جیو یا شرافت کے ساتھ مرجاؤ۔ تیروں کی بارش اور جھنڈوں کی پھڑ پھڑاہٹ کے ہجوم میں : عِشْ عَزِيْزاً أَوْمِتْ وَ أَنْتَ كَرِيمٌ بَيْنَ طَعْنِ الْقَنَا وَخَفْقِ الْبُنُودِ زمانہ جاہلیت کے لوگ ثنائی طرزِ فکر (dichotomous thinking) میں مبتلا تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس دنیا میں جینے کی دو ہی صورتیں ہیں۔ عزت کے ساتھ رہنا، اور اگر عزت کے ساتھ رہنا ممکن نہ ہو تو لڑ کر مر جانا۔ اسلام نے بتایا کہ یہاں ایک تیسری صورت بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ عزت اور ذلت کے پہلو کو نظر انداز کر کے مواقع عمل کو تلاش کرنا اور حالات کے اعتبار سے جو مواقع کار ملیں ان کو استعمال کر کے زندگی کی تعمیر کرنا۔ اسی اصول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت فرمائی۔ اسی اصول کے مطابق آپ حدیبیہ میں صلح کر کے واپس لوٹ آئے۔ اگر آپ معاملہ کو عزت اور ذلت کی نظر سے دیکھتے تو مکہ اور حدیبیہ دونوں مقام پر مخالفین سے لڑ جاتے، خواہ اس کا نتیجہ یکطرفہ ہلاکت کی صورت میں کیوں نہ نکلے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان اس حکمت کو بھول گئے۔ اب دوبارہ وہ قدیم جاہلی طریقہ پر آگئے ہیں۔ وہ معاملات کو عزت اور ذلت کا سوال بنا کر لڑ جاتے ہیں اور اس کو غلط طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader