آغازِ کلام
Urdu book, p. 216
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاد اور شہادت سمجھتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی عمومی تباہی کا خاص سبب یہی ہے۔ مغرب کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے کہا کہ ہندوستان کیسا عجیب ملک ہے یہاں لوگ معمولی مذہبی سوالات ( مثلاً مندر۔ مسجد مسئلہ ) پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ہندوستان کا نہیں بلکہ قومی نفسیات کا معاملہ ہے۔ ہر قوم بعض معاملات میں حساس ہوتی ہے۔ ہندوستان کے لوگ مذہبی معاملات میں حساس ہیں۔ مغرب کے لوگ مذہبی معاملات میں حساس نہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ بڑھی ہوئی حساسیت کا مسئلہ ان کے یہاں موجود نہیں۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی صدر جیرالڈ فورڈ کی بیوی نے ایک انٹرویو میں کہہ دیا کہ امریکی عورتوں کو گھر پر رہ کر اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت کرنا چاہئے۔ یہ قوم کے لئے ان کی زیادہ بڑی خدمت ہوگی۔ اگلے دن جب جیرالڈ فورڈ نے اس بیان کو پڑھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے کئی ملین ووٹ کھودئے۔ چنانچہ اس کے بعد فورڈ کی مقبولیت گھٹ گئی۔ ۱۹۷۶ء کے الیکشن میں وہ ہار گئے۔ ۱۹ فروری ۱۹۹۳ سعودی عرب کے اخبار العالم الاسلامی (۳۱ جنوری ۱۹۹۳) میں ایک مضمون بوسنیا کے تازہ احوال پر ہے۔ اس کی سرخی یہ ہے : مذابح المسلمين في البوسنه ، هل هي اندلس جديدة ( بوسنیا میں مسلمانوں کے ذبح خانے، کیا یہ نیا اندلس ہے) بوسنیا کے بارہ میں آجکل ہر مسلم اخبار میں اس قسم کے جذباتی مضامین چھپ رہے ہیں۔ کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ جب قرآن میں یہ اصول بتایا گیا ہے کہ وما اصابكم من مصيبة فبما کسبت ايديكم (الشوریٰ ۳۰) تو بوسنیا کے مسلمانوں کا مطالعہ خود ان کے اپنے اعمال کی روشنی میں کرنا چاہئے۔ اور چونکہ لوگوں میں یہ قرآنی ذہن نہیں اس لئے اب تک بوسنیا کے مسلمانوں کی اپنی کوتاہیاں یہاں بھی پریس میں نہ آسکیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ : المؤمن آلف ومألوف ولاخير فيمن لا يالف ولا يوئف۔ مومن چاہنے والا اور چاہا جانے والا ہوتا ہے۔ اور اس آدمی میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader