Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

چاہنے والا ہو اور نہ چاہا جانے والا) اس حدیث کو مطلق مفہوم میں یا کلی معنوں میں لینا درست نہیں۔ کیوں کہ حضرت عمر کے بارہ میں معلوم ہے کہ وہ مزاج کے سخت تھے۔ اس لئے بہت سے لوگ ان سے دور ہوگئے_ حتیٰ کہ یہ کہا جانے لگا کہ عمر کا کوئی دوست نہیں ہے۔ حالانکہ حضرت عمر کے مومن کامل ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اصل یہ ہے کہ کوئی بات خواہ عمومی الفاظ میں کہی جائے۔ مگر وہ بہر حال محدود مفہوم میں ہوتی ہے۔ کلام کا یہ اسلوب ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ ۲۱ فروری ۱۹۹۳ مراکش میں بادشاہی نظام ہے۔ وہاں کے سفر میں پہلی بار میں نے بادشاہت کے معاملات کو قریب سے دیکھا۔ وہاں روزانہ بادشاہ کے محل (القصر الملکی) میں دینی درس ہوتا تھا۔ بڑے بڑے علما جمع تھے۔ ہر تقریر کرنے والا اپنی تقریر میں دیر تک بادشاہ کی تعریف کرتا اور اس کو دعائیں دیتا۔ حتیٰ کہ یہ بھی کہتا کہ واقر اللہ عینہ بسمو ولی عہدہ... (خدا ولی عہد کے ذریعہ بادشاہ کی آنکھیں ٹھنڈی کرے۔ درس کے وقت بادشاہ درمیان میں اپنی مخصوص نشست پر بیٹھتا تھا۔ اور ان کے ولی عہد صاحبزادے ان کے دائیں طرف ایک مخصوص کرسی پر بیٹھتے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ وہاں ہر آدمی بادشاہ کے ذہن سے سوچتا ہے، تمام سرگرمیاں بادشاہ رخ ہو کر رہ گئی ہیں۔ آزادانہ فکر کا کوئی وجود نہیں۔ ایسے حالات میں تخلیقی ذہن کی پرورش ممکن نہیں۔ ۲۲ فروری ۱۹۹۳ جرمنی کے ایک اسکالر ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلہ پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں میں نے بہت سے مسلمانوں سے ملاقات کی۔ آپ کے بارہ میں لوگوں نے یہ شکایت کی کہ آپ مسلمانوں کو ہمیشہ صبر کی تلقین کرتے ہیں اور ان کو اقدام سے منع کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اقدام ایک اچھی چیز ہے۔ مگر اقدام کا تعلق تمام تر حالات سے ہے ناموافق حالات میں اقدام کرنا اقدام نہیں بلکہ خودکشی ہے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page