Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

نے نومبر ۱۹۸۹ میں برلن وال توڑنے کے لئے اقدام کیا اور اس کو توڑ ڈالا۔ آپ مجھے بتائیے کہ دس سال پہلے اگر آپ برلن وال کو توڑنے کے لئے اٹھتے تو کیا آپ کامیاب ہو سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہرگز نہیں۔ دس سال پہلے اگر ہم ایسا اقدام کرتے تو برلن وال نہ ٹوٹتی البتہ ہم لوگ ٹوٹ کر رہ جاتے۔ میں نے کہا کہ اس مثال سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں ایسا ہے کہ میں مسلمانوں کو اقدام نہ کرنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ ۲۳ فروری ۱۹۹۳ ایک عالم کی تقریر بر قرآن میں نسخ کے مسئلہ پر تھی۔ انھوں نے پرجوش انداز میں کہا کہ نسخ اب ختم ہو چکا ہے۔ جو ناسخ ہے وہ ہمیشہ کے لئے ناسخ ہے، جو منسوخ ہے وہ ہمیشہ کے لئے منسوخ ہے۔ اب قرآن میں کوئی مزید نسخ ہونے والا نہیں۔ عام طور پر علماء اور فقہاء کا یہی خیال ہے۔ مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ یہ لوگ نسخ کے معاملہ کو صرف ”تفسیر“ کا ایک مسئلہ سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ نسخ ایک اصول کا مسئلہ ہے۔ نسخ کا تعلق صرف کسی آیت کی تفسیر سے نہیں ہے، وہ ایک شرعی اصول ہے۔ اور اصول کی حیثیت سے وہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ مثلاً حالات کے اعتبار سے کبھی صبر مطلوب ہوتا ہے۔ اور کبھی اقدام۔ جب بھی حالات کا تقاضایہ ہو کہ اقدام کے بجائے صبر کی روش اختیار کی جائے تو وہاں اقدام کا حکم منسوخ رہے گا اور صبر کے حکم پر عمل جاری رکھا جائے گا۔ ۲۴ فروری ۱۹۹۳ ایک صاحب نے کہا کہ ۱۹۴۷ سے پہلے بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد نے اپنے مستقبل کی قربانی دے کر ملت کے کام کے لئے اپنے کو وقف کر دیا۔ مثلاً ڈاکٹر ذاکر حسین۔ مگر اب ایسا نہیں ہوتا۔ میں نے کہا کہ ۱۸۵۰ سے لیکر ۱۹۴۷ تک کا دور مسلمانوں کے لئے رومینٹک دور تھا۔ مغل سلطنت کا خاتمہ اور عثمانی سلطنت کا خاتمہ ایسے واقعات تھے جنھوں نے مسلمانوں میں زبردست جوش پیدا کیا۔ اعلیٰ تنناؤں کے ساتھ لوگ ملت کی قربان گاہ میں کود پڑے۔ مگر ان کی قربانیاں سراسر بے نتیجہ رہیں۔ اس معکوس انجام نے قومی سطح پر لوگوں سے ان کے حوصلے چھین لئے۔ رومینٹک دور ختم ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایسے افراد کہیں دکھائی نہیں دیتے۔۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page