Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

19 ویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں جور و مانی دور تھا، اس میں اگر مسلمانوں کو دور اندیش اور زمانہ شناس اور حقیقت پسند رہنما مل جاتے تو امت کی تاریخ بالکل مختلف ہوتی۔ ۲۵ فروری ۱۹۹۳ پیٹر ڈرو کوز (Peter Drue Koz) کیمو زَم کے موضوع پر اتھارٹی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے اپنی ایک تازہ کتاب میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کیا وجہ ہے کہ سوویت یونین میں مذہب تو باقی رہا مگر کیموزم فیل ہو گیا۔ اس سلسلہ میں اس نے لکھا ہے کہ کیموزم کے پاس بحیثیت ایک نظام کے ہیرو موجود تھے۔ مگر کیموزم بحیثیت عقیدہ کے اپنا کوئی سینٹ نہیں رکھتا تھا: Communism as a system had its heroes, but Marxism as a creed did not have any saints. یہ بات صحیح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح کیموزم کے پاس بڑے بڑے جنگجو ہیرو موجود تھے، اسی طرح اس کے پاس بڑے بڑے سینٹ بھی موجود تھے۔ یہ سینٹ اس کے نظریاتی مبلغین تھے۔ البتہ یہ سوال ہے کہ مذہبی سینٹ کی طرح اشتراک کی سینٹ کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مذہبی سینٹ کی حمایت میں انسان کی فطرت موجود تھی۔ جب کہ اشتراک کی سینٹ کو فطرت کی حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ ۲۶ فروری ۱۹۹۳ میں ۱۱ فروری کی شام کو مراکو کے لئے روانہ ہوا تھا۔ آج صبح اس طویل سفر سے واپس آیا۔ وہاں بہت سے تجربات پیش آئے۔ مراکو کی وزارت الاوقاف والشؤون الاسلامیہ کی دعوت کے تحت الدروس الحسنتیہ میں شرکت کے لئے یہ سفر ہوا۔ ایک روز میں اور صالح شوکات ہوٹل سے نکل کر قریب کی کالونی کی طرف گئے۔ ہم کسی مسجد کی تلاش میں نکلے تھے۔ راستہ میں مراکو کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ اپنے دو بچوں کو لئے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ دروس الحسنتیہ کا ذکر ہوا تو مذکورہ مراکشی سلمان اس کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page