آغازِ کلام
Urdu book, p. 220
By Maulana Wahiduddin Khan
خوب تعریف کرنے لگا۔ یہ سن کر اس کے دس سالہ لڑکے نے کہا کہ ہمارے گھروں میں ٹی وی پر جب دروس حسنیر کا پروگرام آتا ہے تو گھر والے کہتے ہیں کہ اس کو بدل دو، یہ دروس حسنیہ ہے۔ (قلب مذہب دروس حسنية) یہی بات میں نے پاکستان میں سنی۔ لاہور میں ایک نوجوان نے مجھے بتایا کہ ہمارے یہاں ٹی وی پر اسلامی پروگرام دکھائے جاتے ہیں۔ مگر جب اسلامی پروگرام شروع ہوتا ہے تو گھر والے کہتے ہیں کہ اس کو بند کر دو، یہ تو اسلامی پروگرام آرہا ہے۔ موجودہ زمانہ کے اسلام پسند لیڈر ہنگامہ خیز سیاست چلا کر حکومت پر قبضہ کرتے ہیں تا کہ ریڈیو اور ٹی وی کو اسلامی کریں ۔ مگر سارے ہنگاموں کے بعد جب حکومت پر قبضہ کرکے وہ الیکٹرانک میڈیا پر اسلامی پروگرام چلاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ان کو سننے والا اور دیکھنے والا ہی نہیں۔ ۲۷ فروری ۱۹۹۳ سڑک پر بے شمار سواریاں ہر وقت دوڑ رہی ہیں۔ انھیں میں سے کسی کی سواری دوسرے کی سواری سے ٹکرا آجاتی ہے۔ اب اگر ٹکر کھانے والا مسافر یہ کہے کہ سڑک کی تمام سواریاں میری دشمن ہیں تو اس قول کے کوئی معنی نہیں ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ سڑک پر دوڑنے والی سواریوں کو یہ فرصت ہی نہیں کہ وہ کسی کی دشمن بنیں یا کسی کے خلاف سوچیں۔ سڑک کی ہر سواری صرف اپنے مفاد کی دوست ہے۔ یہ ایک اتفاق کی بات ہے کہ کبھی کسی کی سواری دوسرے کی سواری سے ٹکرا جاتی ہے اور کبھی نہیں ٹکراتی۔ ۲۸ فروری ۱۹۹۳ انڈیا ٹوڈے (۲۸ فروری) میں ان جنگی تیاریوں کا ذکر ہے جو ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے خلاف کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۵۴ اور ۱۹۹۱ کے درمیان انڈیا نے جوہری بم کی تیاری پر دو بلین ڈالر سے زیادہ سرمایہ خرچ کیا ہے: Between 1954 and 1991, India pumped about $ 2.3 billion into its nuclear weapon programme. (p. 56)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader