آغازِ کلام
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام انسان اصلا ایک ہیں۔ ہر آدمی اپنی نیچر پر ہے۔ یہاں کوئی مَسٹر سکولر، مَسٹر نان سکولر نہیں۔ ہر ایک مَسٹریچر ہے۔ البتہ ہر آدمی کے اندر دو مختلف صفتیں ہیں۔ ایک نفسِ امارہ (انانیت)، اور دوسری نفسِ لوامہ (ضمیر)، عام حالات میں ہر آدمی اپنے ضمیر کے تحت ہوتا ہے لیکن جب اس کی انّا کو چھیڑ دیا جائے تو اس وقت اس کے اوپر نفسِ امارہ غالب آ جاتا ہے۔ کسی انسان یا گروہ کے شر سے بچنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ اس کو نفسِ لوامہ پر رہنے دیا جائے ۔ اس کو نفسِ امارہ کا معمول نہ بننے دیا جائے۔ ۶ فروری ۱۹۹۳ ایک ہندو سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ مسجدوں کو توڑ کر وہاں مندر بنانے کی بات کرتے ہیں۔ مگر اس کے نتائج پر آپ نے غور نہیں کیا۔ اس قسم کی تحریک اپنے نتیجہ کے اعتبار سے مسجد کی جگہ مندر بنانے کی تحریک نہیں ہے، بلکہ مسجد۔ مندر کے نام پر ملک کو تباہ کرنے کی تحریک ہے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں آپ کے لئے جو انتخاب ہے وہ حقیقتاً اس ڈھانچہ اور اُس ڈھانچہ کے درمیان نہیں ہے بلکہ اس ڈھانچہ اور ملک کی تباہی کے درمیان ہے: Here the option is not between this structure and that structure. The real option is between this structure and destruction. ۷ فروری ۱۹۹۳ ایک صاحب نے بتایا کہ انھوں نے ہندی زبان کا ایک ویڈیو کیسٹ دیکھا۔ اس میں دو ہندوؤں کے آپس میں بات کرتے ہیں۔ ایک کہتا ہے مسلمان کون لوگ ہیں۔ دوسرا جواب دیتا ہے کہ مسلمان وہ ہے جو ہر معاملہ میں ہم سے الٹا کام کرے۔ جیسے کہ ہندو سیدھے توے پر روٹی پکاتے ہیں تو مسلمان الٹے توے پر روٹی پکاتے ہیں۔ ہندو بتوں کی پوجا کرتا ہے تو مسلمان بتوں کی پوجا نہیں کرتے۔ ہندو سبزی کھاتا ہے تو مسلمان گوشت کھاتا ہے۔ ہندو اپنے گھروں کی صفائی کرتے ہیں تو مسلمان اپنے گھروں کو گندا رکھتا ہے۔ ہندو امن چاہتا ہے تو مسلمان لڑائی جھگڑے کرتے ہیں۔ وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader