Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے دفاعی اخر اجات اس کے علاوہ ہیں۔ اس کو میں نے پڑھا تو میں نے سوچا کہ مفروضہ دشمن کے خلاف ہتھیار جمع کرنے کا کام ہر آدمی کر سکتا ہے۔ مگر ہوشیار آدمی وہ ہے جو ہتھیاروں میں دولت ضائع کرنے کے بجائے حکمت عملی کے ذریعہ اختلافی مسائل کو حل کرلے۔ یکم مارچ ۱۹۹۳ کل دہلی کے تمام اخباروں میں ایک روزہ ہڑتال تک تھی۔ چنانچہ دہلی میں کوئی اخبار نہیں نکلا۔ ہمارے ہا کر نے آج جبے پور سے نکلنے والا انگریزی اخبار راجستھان پتریلا لا کر دیا۔ اس کے ایڈیٹوریل صفحہ کے اوپر مارلے (Morley) کا یہ قول کہا گیا تھا کہ اعلیٰ ذہن اس لامحدود صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے کہ وہ ٹرینوں کو پکڑ سکے : Genius consists of an infinite capacity for catching trains. اس دنیا میں بے شمار ٹرینیں ہیں۔ وہ خود اپنے مقررہ ضابطہ کے مطابق چلتی ہیں، وہ کسی کا انتظار نہیں کرتے۔ کم عقل لوگ ایک ٹرین کھو کر مایوسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مگر عقل والا آدمی ایک ٹرین کھو نے کے بعد دوسری ٹرین پا لیتا ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے سفر کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ ۲ مارچ ۱۹۹۳ ۲۳ مہینے سے بوسنیا میں مسلم اور سرب کے درمیان خون ریزی جاری تھی۔ مگر اقوام متحدہ یا امریکہ نے اب تک اس میں کوئی عملی مداخلت نہیں کی تھی۔ آج کے اخبار میں پہلی بار یہ خبر آئی ہے کہ سرب کے چار جہاز جو ممانعت کے علاقہ (no-fly zone) میں اڑ رہے تھے، ان کو امریکہ کے ماتحت ناٹو (NATO) کے جنگی جہازوں نے مار گرایا۔ فضا میں اڑتے ہوئے جہاز کو عام گن سے مار نا بے حد مشکل ہے۔ کیونکہ گن کی گولی سیدھی جاتی ہے اور اتنی دیر تک تیزی سے اڑتا ہوا جہاز آگے جا چکا ہوتا ہے۔ چنانچہ اڑتے اڑتے ہوئے جنگی جہازوں کو مارنے کے لئے ایسے میزائل بنائے گئے ہیں جو جہازوں کا پیچھا کر کے اس کو مارتے ہیں۔ جنگی جہاز جب تیزی سے اڑتا ہے تو وہ فضا میں سخت گرمی پیدا کرتا ہے۔ یہ میزائل اس گرمی کی طرف دوڑتے ہیں، اس طرح وہ لازمی طور پر جہاز کو مارنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page