آغازِ کلام
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
خبر (ٹائمز آف انڈیا ۳ مارچ) میں بتایا گیا ہے کہ گرمی کا پیچھا کرنے والے میزائل کے ذریعہ ان جہازوں کو مار گرایا گیا : US F-16 fighters blasted the Yugoslav-made G-4 planes with heat- seeking missiles. میں نے جب ہیٹ سیکنگ میزائل کا لفظ اخبار میں پڑھا تو اچانک قرآن کی یہ آیت یاد آگئی : فاتبعه شهاب ثاقب (الصافات (۱۰) قرآن میں پیچھا کر کے مارنے کی بات اس وقت سے موجود ہے جبکہ ساری دنیا میں کوئی شخص اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ۳ مارچ ۱۹۹۳ دھور لاکنواں (نئی دہلی) میں ایک بڑے مسلمان افسر رہتے ہیں۔ ان کا ٹیلی فون آیا تھا کہ ہم اپنے یہاں ۳ مارچ کو افطار کی ایک مجلس کر رہے ہیں۔ آپ بھی اس میں شرکت کریں۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ کھانے کے بعد وہاں لوگ بیٹھیں گے اور کچھ دین کی باتیں کہنے کا موقع ہوگا۔ چنانچہ میں چلا گیا۔ یہ مسلمانوں کے اپر مڈل کلاس کی ایک مجلس تھی۔ لوگ دیر تک کھاتے پیتے رہے اور اپنی اپنی باتیں سناتے رہے۔ کسی نے مجھ سے یہ نہیں کہا کہ قرآن و حدیث کی کوئی بات بتائیے۔ یہ مسلمانوں کا حال ہے۔ دوسری طرف ہندوؤں میں جب بھی میں جاتا ہوں تو وہاں وہ لوگ ہمیشہ کچھ اسلامی باتیں سننے کی خواہش کرتے ہیں۔ مثلاً رشی کیش کے سفر میں ایک مجلس میں چند ہندو تھے۔ ایک پنڈت جی نے مجھ سے کہا : اسلام کی کوئی وحشی بات بتائیے۔ ۴ مارچ ۱۹۹۳ رباط (مراکو) کے الدروس الحسنینہ میں جو لوگ شرکت کے لئے آئے تھے ان میں سے ایک ڈاکٹر ابراہیم الرفاعی تھے۔ وہ کویت یونیورسٹی میں شعبۂ جیالوجی کے ہیڈ ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ کچھ مجلسی مزاج کے ہیں۔ اور اکثر تفریحی باتوں میں وقت صرف کرتے ہیں۔ ۲۶ فروری کو میں اور وہ دونوں رباط سے واپس ہوئے۔ آخری دن میں نے ان کو ایک بند لفافہ دیا اور کہا کہ اس کو آپ ابھی نہ کھولیں بلکہ کویت پہنچ کر وہاں اسے کھول کر پڑھیں۔ اس میں میں نے عربی میں یہ جملہ لکھا تھا :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader