آغازِ کلام
Urdu book, p. 223
By Maulana Wahiduddin Khan
الحیاة اغلی من ان تصرف فی شئ اقل مستوی من الغایة العلیا۔ (زندگی اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ اس کو مقصد اعلیٰ سے کم ترکی چیز میں صرف کیا جائے)۔ مراکر کے سفر (فروری ۹۲) میں ایک نوجوان نے بوسنیا کے مسلم لیڈر علی عزت بیگوفتش کی کی کتاب کا عربی ترجمہ البیان الاسلامی" دکھایا۔ اس کے مقدمہ میں مصنف نے ۱۹۸۰ء میں لکھا تھا : بهذا الایمان نعلن لا صدقاء نا واعدائنا ان المسلمين قد عقد وا العزم علی تولی زمام مصیر عالم الاسلامی باید یهم و تدبیر شلونهـم وفقا لمفهوم الاسلام عندهم۔ ۶ مارچ ۱۹۹۳ انگریزی روزنامہ پائیر نے ہندوستان کے موجودہ کرپشن کے بارے میں ایک سروے کرایا۔ یہ سروے پائیر کے شمارہ ۶ مارچ میں شائع ہوا ہے۔ اس سروے کے مطابق ۶۱ فیصد لوگوں نے یہ بتایا کہ سیاست داں بنیادی طور پر کرپشن کے ذمہ دار ہیں۔ چنانچہ اخبار نے رپورٹ کی سرخی حسب ذیل الفاظ میں قائم کی ہے: Politicians to blame for corruption عام طور پر لوگ یہی بات کہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سیاست داں عام انسانوں سے الگ کوئی مخلوق نہیں۔ وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح ہیں۔ اصل یہ ہے کہ سیاست کا پیشہ آدمی کو اقتدار تک پہنچاتا ہے۔ اور اقتدار آدمی کو کرپٹ بناتا ہے۔ لار ڈائکٹن نے نہایت درست طور پر کہا کہ اقتدار بگاڑتا ہے اور کامل اقتدار بالکل بگاڑ دیتا ہے۔ Power corrupts and absolute power corrupts absolutely. زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ اس طرح کہا جائے کہ ارباب اقتدار کرپشن پیدا کرتے ہیں نہ کہ ارباب سیاست، جن لوگوں نے مذکورہ سروے میں حصہ لیا ان کو اگر اقتدار حاصل ہو جائے تو یقین کیجیے کہ وہ بھی وہی کریں گے جو موجودہ سیاست داں کر رہے ہیں۔ دوسرے کے بارے میں حکم لگانا کتنا آسان ہے اور خود اپنے بارے میں حکم لگانا کتنا مشکل۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader