Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا انیس لقمانی ندوی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ دہلوی کو بہت سے لوگ دورِ جدید کا امام کہتے ہیں۔ مگر یہ بالکل بے اصل بات ہے۔ دورِ جدید کا طرز فکر سائنٹفک طرزِ فکر ہے۔ جب کہ شاہ صاحب کے یہاں تقلیدی طرزِ فکر پایا جاتا ہے۔ پھر وہ دورِ جدید کے امام کس طرح ہو سکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ انھوں نے وقت کے مسجع اسلوب کو چھوڑ کر ایک نیا اسلوب اختیار کیا جیسے ابنِ خلدون نے اختیار کیا تھا۔ مگر فکری اعتبار سے ان کو دورِ جدید کا امام نہیں کہا جا سکتا۔ سائنٹفک طرزِ فکر سے مراد تجریاتی طرزِ فکر ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ۶۱۰ء میں ہوئی۔ اس وقت مکہ کے مشرکین نے حج کو شمسی کیلنڈر کے اوپر جاری کر رکھا تھا۔ رسول اللہ کے مشن کا ایک جز یہ بھی تھا کہ حج کو دوبارہ قمری کیلنڈر پر قائم کیا جائے۔ مگر آپ نے ۶۱۰ء میں اس مسئلہ کو نہیں چھیڑا۔ ۶۳۰ء میں مکہ فتح ہو گیا تب بھی آپ نے اس طریقہ کے خاتمہ کا اعلان نہیں کیا۔ آپ نے اس کا اعلان حجة الوداع کے موقع پر ۶۳۲ء میں کیا۔ سنین کا تعین کر کے اس مسئلہ پر غور کرنا ہی تجریاتی مطالعہ ہے، اور یہی جدید اسلوب ہے۔ مگر شاہ صاحب کے یہاں اس طرزِ مطالعہ کی مثال نہیں ملتی۔ ان کی تمام کتابیں قدیم روایتی اسلوب پر لکھی گئی ہیں۔ ۸ مارچ ۱۹۹۳ آجکل میں اپنی کتاب "عظمتِ اسلام" کی تکمیل میں رات دن مصروف رہتا ہوں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ میری آخری کتاب ہوگی یا مجھے کوئی اور کتاب لکھنے کی توفیق حاصل ہوگی۔ لوگوں کی چیرہ دستیوں نے زندگی اتنی تلخ کر دی ہے کہ ہر لمحہ یہ دعا نکلتی ہے کہ خدایا مجھے معدوم کر دے۔ کیوں کہ ان ناانسان انسانوں کے درمیان جینے کی طاقت میرے اندر نہیں۔ اب اس کے سوا زندگی کی کوئی تمنا نہیں کہ میں اسلام کے بارہ میں کچھ کتابیں لکھ سکوں جو میرے ذہن میں سمائی ہوئی ہیں۔ تاہم یہ کوئی آسان کام نہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے لئے مجھے موت کے سمندر میں جینا پڑے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page