Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 225

By Maulana Wahiduddin Khan

پاکستان کے بانی مر محمد جنا نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے ۱۳ جنوری ۱۹۴۸ کو اسلامیہ کالج پشاور میں ایک تقریر کی ۔ اس میں انھوں نے کہا : ہم نے پاکستان کا مطالبہ صرف ایک خطۂ زمین حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا۔ بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔ پاکستان کے اسلام پسند بانی پاکستان کے اس قول کو بہت زیادہ دہراتے ہیں۔ پاکستان کی ہر حکومت کے خلاف مطالباتی مہم میں اس کو استعمال کیا گیا ہے ۔ مگر پاکستان کے کسی عالم یا دانشور نے یہ نہیں سوچا تقسیم ملک کی پر شور تحریک چلا کر ایک خطہ ارض حاصل کرنے سے اسلامی نظام کیسے قائم ہو جائے گا۔ اسلامی نظام قائم کرنے کے لئے فکری انقلاب درکار ہوتا ہے نہ کہ ارضی تقسیم۔ ایک آدمی اگر درخت سے ایک شاخ کا لے اور اس کو زمین میں گاڑ دے۔ اگلے دن جب وہ شاخ سوکھ جائے تو وہ لاؤڈ اسپیکر لگا کر دیکھنے کہ ہم نے شاخ کو درخت سے کاٹ کر یہاں اس لئے نہیں لگایا تھا کہ وہ سوکھ جائے بلکہ اس لئے لگایا گیا تھا کہ ایک ہرا بھرا درخت بنے ، تو ایسے آدمی کے اس قول کو استعمال نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کی تصحیح کی جائے گی۔ یہ کہا جائے گا کہ ہرا بھرا درخت بیج سے بنتا ہے نہ کہ کٹی ہوئی شاخ سے ۔ اسی طرح مسٹر جناح کا مذکورہ قول رہا اس طرح کے دوسرے اقوال (قابلِ اصلاح) ہیں نہ کہ قابل استعمال۔ ۱۰ مارچ ۱۹۹۲ مسٹر چکوردتی (Saurik Chakraverti) ایک ذہین ہندو نوجوان ہیں۔ وہ سری اردو بڈ ارگ میں رہتے ہیں۔ ان کا ٹیلی فون نمبر (663630) ہے ۔ وہ ملاقات کے لئے آئے اور اپنی انگریزی کتاب (From Poverty to Ayodhya) پیش کی جو ۳۲۴ صفہ پر مشتمل ہے ۔ اس کتاب میں انھوں نے دکھایا ہے کہ آزادی کے بعد ہندوستان کی تعمیر کے لئے جو نہرو ماڈل (سوشلسٹ ماڈل) اختیار کیا گیا وہ ایک غلط انتخاب تھا۔ اور یہی ہماری اکثر مصیبتوں کا سبب ہے۔ مسٹر چکوردتی سے میں نے پوچھا کہ ۱۹۵۵ میں آپ کی عمر کیا تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page