آغازِ کلام
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
تو میں دنیا میں موجود بھی نہیں تھا۔ کیوں کہ میری پیدائش ۱۹۵۰ میں ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ ۱۹۵۵ (Socialistic pattern of society) میں جب جواہر لال نہرو نے کانگریس کے آوڑی اجلاس میں کی تجویز منظور کرائی تھی، اسی وقت میں نے اس کے خلاف ایک مفصل آرٹیکل لکھا تھا اور اس کی سخت مخالفت کی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ سوشلسٹ پیٹرن ہمارے دیش کو تباہ کر دے گا۔ یہ سن کر مسٹر چکر ورتی بہت خوش ہوئے۔ ۱۱ مارچ ۱۹۹۳ دہلی میں ایک پولیس افسر آر کے کہنا ہے۔ ان کے گھر کا ٹیلیفون نمبر 387979 ہے۔ ایک دو بار ان سے ملاقات ہوئی ہے۔ آج صبح میں نے کسی وجہ سے ان کے گھر پر ٹیلیفون کیا۔ انھوں نے رسیور اٹھایا تو میں نے کہا" میں نظام الدین سے آپ کا بھائی بول رہا ہوں۔ انھوں نے غصہ اور نفرت کے لہجہ میں کہا کہ "گدھے" اور فوراً رسیور رکھ دیا۔ خدا کے فضل سے مجھے جوابی غصہ نہیں آیا۔ بلکہ میں سوچنے لگا کہ ایسا کیوں ہوا ۔ میری سمجھ میں آیا کہ یہ خود میری غلطی تھی ۔ دادا قسم کے لوگ انھیں تنگ کرنے کے لئے اس قسم کے ٹیلیفون کرتے ہوں گے۔ میں نے جب کہا کہ میں آپ کا بھائی بول رہا ہوں تو ان کو میری شناخت نہ ہوسکی۔ حسب معمول وہ سمجھے کہ یہ کوئی دادا بول رہا ہے۔ پانچ منٹ بعد میں نے دوبارہ ٹیلیفون ملایا۔ ربط قائم ہونے کے بعد میں نے کہا کہ میں نظام الدین ویسٹ سے وحید الدین بول رہا ہوں۔ انھوں نے فوراً کہا : اچھا، مولا نا جی بول رہے ہیں۔ نمسکار ۔ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں۔ پہلے انھوں نے غصہ اور نفرت کے ساتھ جواب دیا تھا۔ اب وہ ادب اور احترام کے ساتھ بولنے لگے۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو یہاں کی پولیس سے جو شکایت ہے، اس کی حقیقت کیا ہے۔ مسلمان پولیس کے سامنے ایسے انداز میں آتے ہیں جو دادا والا انداز ہوتا ہے۔ اس لئے پولیس والے ان کو دادا سمجھ کر بھڑک اٹھتے ہیں۔ مسلمان اگر مولانا جی کے انداز کے سامنے آئیں تو ہی پولیس والے ان کے سامنے جھک جائیں گے اور شرافت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader