آغازِ کلام
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
لاہور کے اردو روزنامہ نوائے وقت (۲۴ فروری ۱۹۹۳) میں ڈاکٹر مسعود عالم قاسمی (بھارت) کے نام سے ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان کے ۲۰ کروڑ مسلمانوں کو اس ملک میں انتہائی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ حتیٰ کہ ان کا بقا اور تحفظ غیر یقینی ہو گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ان سات باتوں کا ذکر ہے جن کو یہاں کی ہندو اکثریت نے اپنا نصب العین بنایا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے : مسلمانوں کو ایسے سنگین مسائل میں الجھا دیا جائے کہ وہ ہندوؤں میں اسلام کی تبلیغ و دعوت کا کام ہی نہ کرسکیں اور ان کی ساری سرگرمیاں خود اپنے وجود کے سوال پر مرکوز ہو کر رہ جائیں۔ یہ بات لغویت کی حد تک غلط ہے۔ اگر دعوت و تبلیغ کی یہ شرط ہو کہ مدعو کی طرف سے نہایت موافق حالات فراہم کئے جائیں تاکہ وہ سہولت اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا کر سکیں تو یہ اہتمام تو کسی بھی پیغمبر بشمول پیغمبر آخرالزمانؐ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ پھر وہ مسلمانوں کے ساتھ کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے ۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں کے نا اہل رہنماؤں اور دانشوروں نے کبھی بھی ہندوؤں کو مدعو نہیں سمجھا بلکہ صرف حریف سمجھا۔ اسی لئے انھوں نے ایسی لایعنی تحریکیں چلائیں جن کے نتیجہ میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق قائم ہی نہ ہو سکا ۔ ان لایعنی تحریکوں میں پاکستان کی تحریک سر فہرست ہے جس نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان ابدی نفرت کا ایک پہاڑ کھڑا کر دیا۔ ۱۳ مارچ ۱۹۹۳ بنگلور کے ڈاکٹر احمد سلطان صاحب کا ٹیلیفون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ بنگلور میں ان کے علاقہ میں ایک ہندو رہتے ہیں ان کا نام راماسوامی ہے۔ وہ اپنے لڑکے کے چندرا پا سے غصہ ہو گئے اور بولنا ترک کر دیا۔ یہ صورتحال چار سال سے قائم تھی۔ چندرا پا ڈاکٹر صاحب سے ملے اور کہا کہ میرے باپ چار سال سے مجھ سے غصہ ہیں اور بولتے نہیں ہیں اس لئے آپ کچھ کیجئے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ تم اپنے باپ کے پاؤں پر گر پڑو۔ ان کے پاؤں کو بوسہ دو اور کہو کہ باپ مجھ کو معاف کر دیجئے لڑکے کے تراہا ہی کیا اور اس کے بعد باپ نے بیٹے کو سینے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader