Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 228

By Maulana Wahiduddin Khan

سے لگالیا۔ دونوں رونے لگے ۔ چار سال کی ناراضگی پارنٹ میں ختم ہوگئی ۔ بنگلور کے کچھ مسلمانوں کو یہ بات معلوم ہوئی تو انھوں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ نے بیٹے کو باپ کا سجدہ کر وایا۔ یہ تو شرک ہے اور شرک کو اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ ڈاکٹر احمد سلطان نے کہا کہ میں اس کو شرک نہیں سمجھتا۔ تاہم بالفرض اگر ظاہری طور پر وہ شرک بھی ہو تو رفع اختلاف کے لئے وقتی تدبیر کے طور پر وہ جائز ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو شرک کرتے ہوئے دیکھا مگر اس اندیشہ کی بنا پر خاموش رہے کہ اگر انھوں نے کوئی کارروائی کی تو بنی اسرائیل میں تفریق پڑ جائے گی ۔ (ططہ ۹۳) ۱۴ مارچ ۱۹۹۳ ڈاکٹر عبد الماجد صاحب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں۔ اور ذاکر نگر میں رہتے ہیں۔ انھوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ میرے گھر کے سامنے چائے کا ہوٹل ہے ۔ اس میں ریڈیو رات دن فل اسپیڈ سے بجتا رہتا ہے۔ اس کی تیز آواز میرے کمرہ میں آتی ہے جو مسلسل مجھے ڈسٹرب کرتی رہتی ہے۔ اسی طرح میرے پڑوس میں روزانہ جوا ہوتا ہے۔ یہ جوا کیرم بورڈ پر ہوتا ہے۔ ہر ہارنے والا مالک مکان کو پانچ روپیہ دیتا ہے۔ گویا ایک دن اگر سو آدمی ہاریں تو مالک مکان کو گھر بیٹھے پانچ سو روپیہ مل گیا۔ ڈاکٹر ماجد صاحب ان چیزوں سے سخت پریشان تھے ۔ یہ چیزیں ان کے علمی کام میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں ۔ کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ آپ پولیس میں رپورٹ کیجئے ۔ ڈاکٹر ماجد صاحب نے اپنے شیخ مولانا مسیح اللہ خان صاحب ( ) کو خط لکھا اور پوچھا کہ اس صورتحال میں مجھے کیا کرنا چاہئے ۔ مولا نا نے جواب دیا کہ آپ کوئی جوابی کارروائی نہ کیجئے بس اس سے اپنی توجہ ہٹالیجئے اور اپنی کھڑکی بند کر لیجئے ۔ ڈاکٹر ماجد صاحب نے بتایا کہ میں نے شیخ کے اس مشورہ کو پکڑ لیا اور اب خدا کے فضل سے اپنے گھر میں سکون کے ساتھ اپنا علمی کام کرتا ہوں۔ مولانا مسیح اللہ خاں صاحب کا یہ مشورہ نہایت درست تھا۔ مگر تعجب یہ ہے کہ اپنے ذاتی معاملات میں لوگ نہایت آسانی سے اس مشورہ کو مان لیتے ہیں لیکن ملی معاملات میں اس کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page