آغازِ کلام
Urdu book, p. 229
By Maulana Wahiduddin Khan
ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ الرسالم میں مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ ہندوئوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوشگوار باتوں سے اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ یعنی اس سے اپنی توجہ ہٹالیں۔ ذاتی انٹرسٹ کے معاملات میں ہر آدمی اسی اصول کو اختیار کئے ہوئے ہے۔ معرتی انٹرسٹ کے معاملہ میں کوئی اس اصول کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ حتیٰ کہ مشورہ دینے والے پر یہ لیبل لگا دیا جاتا ہے کہ وہ ہندوئوں کا ایجنٹ ہے۔ اس تضاد نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو ہر جگہ برباد کر رکھا ہے ۱۵ مارچ ۱۹۹۳ء عربی ہفت روزہ الدعوۃ (ریاض) کے شمارہ ۲۴ فروری ۱۹۹۳ء کے مطابق، ملیشیا کے وزیر اعظم مائٹر محمد نے کہا ہے کہ اشتراکت کے خاتمہ کے بعد اب دنیا میں تمام انسانوں کے لئے ایک ہی انتخاب رہ گیا ہے، اور وہ اسلام ہے (ران الاسلام اصبح اليوم الخيار الوحيد للبشرية بعد انهيار الشيوعية في العالم)، صفحہ ۶۔ اس قسم کی باتیں آجکل بہت سے مسلمان کہتے ہیں۔ مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے اس حقیقت کو انھوں نے بطور فخر دریافت کیا ہے۔ اس کو انھوں نے دعوتی امکان کے طور پر دریافت نہیں کیا۔ اگر وہ اس کو دعوتی امکان کے طور پر دریافت کرتے تو اس کے ساتھ وہ یہی کہتے کہ اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہم صبر کے اصول پر عمل کرتے ہوئے دنیا کی قوموں سے ہر قسم کا ٹکراؤ ایک طرفہ طور پر ختم کردیں۔ کیوں کہ کٹراؤ کے ماحول میں اس عظیم دعوتی امکان کو استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ دعوت کی مصلحت کے لئے اسی یکطرفہ صبر کا نام حدیبیہ پرنسپل ہے۔ جو لوگ دعوت کی بات کریں مگر وہ حدیبیہ پرنسپل کی بات نہ کریں انھوں نے اصل حقیقت کا صرف ۵۰ فیصد دریافت کیا۔ ۱۶ مارچ ۱۹۹۳ء موجودہ زمانہ کی مسلم صحافت جذباتی صحافت کا دوسرا نام ہے۔ ہر ملک کے اخبارات کا اس معاملہ میں ایک ہی حال ہے۔ مکہ کے عربی اخبار العالم الاسلامی (۲۸ فروری ۱۹۹۳ء)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader