آغازِ کلام
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
میں جھا لوجہ کے مستقل کالم میں منیر حسن منیر کا مضمون شائع ہوا ہے۔ اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو موجودہ حالات میں مسلمانوں کو تحمل کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس کا عنوان ہے : ضبط النفس، ضبط النفس ولكن الى متى ؟ اس پر جوش اور جذباتی تحریر کا خاتمہ ان اشعار پر ہوا ہے: الوحش يمتثل ثا ثرأ و الارض تنبت الف ثائر يا كبرياء الجرح لومتنا لماربت الفتا بر ترجمہ : درندہ ایک باغی کو قتل کرتا ہے اور زمین ہزار باغی پیدا کر دیتی ہے اے عظمتِ زخم اگر ہم مر جائیں تو ہماری قبریں تم سے لڑیں گی یہ بلاشبہ لفظوں سے کھیلنا ہے۔ موجودہ زمانہ میں بدقسمتی سے اس قسم کے خطیب اور ادیب اور شاعر مسلمانوں کے رہنما بن گئے جو لفظوں سے کھیلتے تھے اور نتیجہ مسلمانوں کا وہ حال ہوا جو اس عربی شعر میں بتایا گیا ہے : اذکان الغراب رئيس قوم سیمديمهم الى دار البوارِ ۱۱ مارچ ۱۹۹۳ء مہاتما گاندھی نے ۱۹۴۲ء سے پہلے کہا تھا : " ہم سوئے ہوئے تھے۔ انگریز ہمیں جگانے آئے ہیں " یہ ایک سادہ سا جملہ ہے مگر وہ بہت اہم بات ہے۔ اگر آپ دشمن کو دشمن کہیں تو آپ کے اندر نفرت اور عناد کا مزاج پرورش پائے گا۔ لیکن اگر اپنے دشمن کے بارہ میں آپ یہ کہیں کہ وہ تو ہم کو جگانے کے لئے یہاں آئے ہیں تو اس صورت میں نفرت کے بجائے آپ کے اندر جاگ پیدا ہوگی۔ پہلی صورت میں آپ کے اندر نفرت کی آگ جلنے لگتی ، مگر دوسری صورت میں آپ کے اندر یہ سوچ ابھرے گی کہ اس چیلنج کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ علماء ہند کے تذکرہ میں اکثر یہ لکھا ہوا رہتا ہے کہ حضرت کو انگریزوں سے سخت نفرت تھی۔ اسی نفرت کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ انگریزوں کے مقابلہ میں موثر تد بیر اختیار نہ کر سکے۔ انھوں نے ایک طرف ان سے بے سود قسم کی مسلح لڑائی چھیڑ دی۔ دوسری طرف قوم کو انگریزی پڑھنے سے روکا۔ لیکن گاندھی اس قسم کی نفرت میں مبتلا نہیں ہوئے۔ اس لئے وہ انگریزوں کے مقابلہ کے لئے زیادہ موثر تدبیر سوچنے میں کامیاب ہوئے۔ نیز انھوں نے یہ غلطی نہیں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader