آغازِ کلام
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ آدمی نے کہا کہ اس ایک مثال سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ آجکل ہندوؤں کے درمیان مسلمانوں کے خلاف کس قسم کے جھوٹے پروپیگنڈے کئے جا رہے ہیں۔ ان پر دیگنیڈوں پر جونسل اٹھے گی وہ مسلمانوں کے بارے میں کیسی ہوگی۔ میں نے کہا کہ اس کا بہت آسان حل ہے۔ آپ ہندوؤں اور مسلمانوں میں زیادہ سے زیادہ میل جول (interaction) بڑھائیے۔ اس کے بعد یہ تمام بے بنیاد پروپیگنڈے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ ۸ فروری ۱۹۹۳ مسٹر اے آر شیروانی نے بتایا کہ ریاست گوالیار میں یہ رواج تھا کہ محرم کا تعزیہ جب اٹھانا ہوتا تو مہاراجہ خود آکر اس کو کندھا دیتے اس کے بعد تعزیہ آگے بڑھتا۔ آزادی کے بعد جب نئے راجہ کا دور آیا تو دوبارہ مسلمانوں نے پیغام بھیجا کہ راجہ صاحب آئیں اور تعزیہ کو کندھا دے کر اسے آگے بڑھائیں۔ نئے راجہ نے بہانہ کرکے کہلا دیا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لئے میں نہیں آسکتا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے خاموشی سے ایک تندبیر سوچی۔ وہ تعزیہ اٹھانے کے لئے جمع ہوئے مگر کسی نے زیادہ زور نہیں لگایا اس لئے تعزیہ بھی اٹھ نہ سکا۔ اس کے بعد انھوں نے مہاراجہ کو پیغام بھیجا کہ آپ کے بغیر تعزیہ اٹھ نہیں رہا ہے اس لئے آپ کا آنا ضروری ہے۔ ورنہ تعزیہ اسی طرح پڑا رہے گا۔ یہ پیغام سن کر راجہ اس مقام پر آئے اور مسلمانوں کے ساتھ خود بھی تعزیہ کو ہاتھ لگایا۔ اب فورا ہی مسلمانوں نے تعزیہ اٹھا لیا اور اس کو لے کر آگے بڑھے۔ راجہ صاحب اس بات سے بہت خوش ہوئے۔ گوالیار کے مسلمانوں کی یہ خوش قسمتی تھی کہ اس وقت وہاں کوئی مسلمان لیڈر موجود نہ تھا جو ان کو یہ مشورہ دیتا کہ راجہ صاحب نے تعزیہ کی بے حرمتی کی ہے اس لئے ان کے خلاف ایک ٹیشن چلانا چاہئے۔ وہاں مسلمانوں کی اپنی سادہ سوچ کے سوا کوئی اور چیز نہیں تھی جس سے وہ رہنمائی لیں اور انسان جب اپنی سادہ سوچ کی رہنمائی میں چل رہا ہو تو وہ اسی طرح ہر مسئلہ کا حل با آسانی در یافت کر لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader