Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ انگریزوں کی ضد میں انگریزی زبان اور انگریزی علوم کے مخالف ہو جائیں۔ جناب محمد اسلم صاحب ہوم ہسٹری میں ایک افسر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوستان کی پوری مسلم آبادی کا ۵۲ فیصد حصہ یوپی ، بہار اور بنگال میں رہتا ہے۔ مگر اسی علاقہ کے مسلمان سب سے زیادہ پس ماندہ ہیں۔ یہ علاقہ جس کو عام طور پر شمالی ہند کہا جاتا ہے تعلیم میں بھی پیچھے ہے ۔ اور اقتصادیات میں بھی پیچھے ہے۔ اس کے مقابلہ میں جنوبی ہند کے مسلمان ہر اعتبار سے کافی آگے ہیں۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یوپی ، بہار اور بنگال کے علاقہ میں علماء کی سرگرمیاں بہت زیادہ جاری رہی ہیں۔ جنوبی ہند کے مقابلہ میں شمالی ہند میں ہمارے علماء کئی سو سال سے سرگرم عمل ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جس علاقہ میں علماء کی سرگرمیاں زیادہ ہیں وہ پیچھے ہے۔ اور جس علاقہ تک علماء کی سرگرمیاں نہیں پہنچیں یا بہت کم پہنچیں وہ مقابلہ بہت آگے ہیں۔ اس سوال کا غالباً کوئی بھی ایسا جواب نہیں دیا جا سکتا جس میں علماء اس کی ذمہ داری سے بری قرار پاتے ہوں۔ ۱۹ مارچ ۱۹۹۳ ۴ مارچ کو میں پارلی منٹ انیکسی کے ایک اجتماع میں شریک ہوا۔ اس میں کئی بڑے بڑے ہندو کلے ہوئے تھے۔ مثلاً ایل کے اڈوانی ، اٹل بہاری باجپئی ، شیوراج پاٹل وغیرہ۔ یہ اجتماع ایک کتاب کو ریلیز کرنے کے نام پر ہوا۔ جو پنڈت دین دیال اپادھیائے پر لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر مہیش شرما ہیں۔ پنڈت دین دیال اپادھیائے ( ۱۹۶۸ - ۱۹۱۴) جن سنگھ کے بانیوں میں سے تھے۔ مسلمان ان کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اکثر مسلمانوں کے خلاف بولتے تھے۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ مسلمان کیوں ایسا کہتے ہیں کہ "میرے مولا بلالے مدینے میں۔ مسلمان بھارت میں رہتے ہیں اور مٹکے مدینے کا گیت گاتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دیش کے وفادار نہیں ۔ حالانکہ اس کا آسان جواب یہ ہے یہ کچھ عوامی قسم کے لوگوں کے گیت ہیں ۔ وہ مسلمانوں کا کوئی ملی گیت نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page