Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 232

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ کتاب میں پنڈت اپادھیائے کے بعض قابل قدر واقعات ہیں۔ مثلاً 1963 میں وہ جون پور کے علاقہ سے لوک سبھا کی سیٹ کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ ان کے مقابلہ میں کانگریس کا امید وار تھا الیکشن ہوا تو پنڈت اپادھیائے ہار گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے حریف کے خلاف پٹیشن دائر نہیں کیا بلکہ اپنی ہار کو تسلیم کر لیا۔ وہ کامیاب امید وار کے گھر گئے، اس کو ہار پہنایا اور اس کی جیت پر اس کو مبارک باد دی۔ 20 مارچ 1993 کشمیر کے تین مسلم طالب علم ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے کشمیر یونیورسٹی سے ماس کمیونی کیشن اینڈ جرنلزم کا کورس کیا ہے۔ آجکل وہ انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ گفتگو کے بعد آخر میں انھوں نے کہا کہ مسلم طالب علموں کے لئے آپ کا مشورہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ صرف طالب علم بنیں، اس کے سوا کچھ اور بننے کی کوشش نہ کریں۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ سخت مقابلہ کا زمانہ ہے۔ آج صرف امتیاز (excellence) کی قیمت ہے۔ اور امتیاز کا درجہ یکسوئی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ 21 مارچ 1993 پاکستان کے ایک مذہبی جریدہ نے لکھا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان خطرے میں ہے، اور پاکستان میں اسلام خطرے میں ہے۔ (ماہنامہ الفاروق ، کراچی ، رجب 1413ھ) یہ ایک نادانی کا تبصرہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ ہندوستان میں مسلمان غیر محفوظ ہے اور نہ پاکستان میں اسلام غیر محفوظ ہے۔ البتہ نا اہل مسلم رہنمائوں نے دونوں ملکوں میں مسلمانوں کے لئے اور اسلام کے لئے غیر ضروری مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔ ہندوستان میں ان رہنمائوں نے دو قومی تحریک اور احتجاجی تحریک جیسی سیاستیں چلا کر یہ نقصان پہنچایا کہ یہاں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان تلخی اور کشیدگی کی فضا پیدا ہو گئی۔ یہی مصنوعی فضا مسلمانوں کے تمام مسائل کا اصل سبب ہے۔ یہاں کے مسلمان اگر ہوشمندی کے ساتھ رہنا سیکھ جائیں تو وہ ہندوستان میں بھی اسی طرح امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں جس طرح سعودی عرب یا امریکہ میں وہ رہ رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page