Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح پاکستان کے تمام مسائل نام نہاد اسلام پسندوں کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ وہ نفاذ شریعت کے نام پر اٹھٹھے تھے۔ اس لئے انہیں حکمت اور تدریج کے ساتھ کام کرنا چاہئے تھا۔ مگر انہوں نے نفاذ شریعت کے نام سے حکمرانوں سے ٹکراؤ شروع کر دیا۔ اسی غیر ضروری ٹکراؤ نے پاکستان کے موجودہ تمام مسائل پیدا کئے ہیں۔ ۲۲ مارچ ۱۹۹۳ء ہندوستان میں مسلمانوں کو جو کام کرنا ہے اس میں سے ایک خاص کام یہ ہے کہ وہ ہر جگہ ایسے ابتدائی اسکول قائم کریں جو سرکاری گرانٹ یا عوامی چندہ پر نہ چلائے جائیں، بلکہ تعلیمی فیس کی بنیاد پر چلائے جائیں۔ فیس کی مقدار اتنی کافی ہونی چاہئے کہ اسکول کا پورا خرچ اس سے نکل سکے۔ ایسے اسکول کی کامیابی کا یقینی راز یہ ہے کہ اس کا تعلیمی معیار نہایت اچھا ہو۔ جب لوگ دیکھیں گے کہ اس کے طلبہ امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوتے ہیں تو بڑی بڑی فیس دے کر بھی وہ اپنے بچوں کو اس میں داخل کر آئیں گے۔ یہ ایک زبردست امکان ہے جس سے فائدہ اٹھا کر ہندوستان کے مسلمان اپنے مستقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ کشمیر (راجوری) کے ایک صاحب سے ملاقات کے وقت میں نے یہ بات کہی۔ جناب فاروق مضطر صاحب جو الرسالت مشن سے اول دن سے وابستہ ہیں وہ اسی نہج پر راجوری میں ایک تعلیمی ادارہ چلا رہے ہیں اور خدا کے فضل سے نہایت کامیاب ہیں۔ انہوں نے اس معاملہ میں ایک عمدہ مثال قائم کی ہے۔ ۲۳ مارچ ۱۹۹۳ء انڈیا کے موجودہ فائنس منسٹر ڈاکٹر من موہن سنگھ ملک کے اقتصادی ڈھانچہ میں انقلابی تبدیلی لا رہے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ وہ ملک میں فری اکانومی کا نظام قائم کریں۔ اس نظام میں ان لوگوں کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے جہاں تک ریاستی اکانومی کے نظام میں بڑے بڑے فائدے حاصل کر رہے تھے۔ ٹائمز آف انڈیا (۲۳ مارچ ۹۳) کے مطابق ڈاکٹر من موہن سنگھ نے لوک سبھا میں ان لوگوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کے لئے دو ہی راستے ہیں ۔ یا مقابلہ کیجئے یا مٹ جائیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page