Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 234

By Maulana Wahiduddin Khan

Compete or perish ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جوہر لال نہرو اور ان کے ساتھیوں نے یہ سمجھا تھا کہ ان کے لئے مقابلہ اور تحفظ میں انتخاب ہے ۔ چنانچہ انھوں نے مقابلہ کا راستہ چھوڑ کر اقتصادی تحفظ کا راستہ اختیار کیا۔ مگر ۳۳ سال کے تباہ کن تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ اس دنیا میں آدمی کے لئے حقیقی انتخاب مقابلہ اور ہلاکت کے درمیان ہے نہ کہ مقابلہ اور تحفظ کے درمیان۔ یعنی اگر آپ مقابلہ سے کترائیں گے تو آپ ہلاکت کے گڑھے میں گریں گے، مقابلہ سے کترائز کر تحفظ کا مقام کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ ۲۲ مارچ ۱۹۹۴ محمد شعیب عالم ایک مسلم نوجوان ہیں، وہ جامعہ نگر کے علاقہ میں رہتے ہیں اور جامعہ میں بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ٹیلیفون نمبر 6835926 ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے علاقہ کے ایک درجن مسلم طلبہ نے مل کر ایک تنظیم بنائی ہے جس کا نام اسٹوڈنٹس اسکواڈ فار ایجوکیشنل پرموشن (SSEP) ہے۔ اس تنظیم کا واحد نشانہ تعلیم ہے۔ ان کا ماٹو یہ ہے : خود پڑھیں ، دوسروں کو پڑھائیں۔ یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی ۔ اوکھلا کے علاقہ کے بارہ میں عام تصور یہ ہے کہ یہاں کے مسلم نوجوان صرف تخریبی کاموں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مگر مذکورہ تنظیم بتاتی ہے کہ اگر کچھ مسلم نوجوان تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تو کچھ دوسرے مسلم نوجوان تعمیری کام بھی کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں لوگ عام طور پر اخباروں کے انداز یا دہ عادی ہو گئے ہیں کہ وہ خود اپنے علاقہ کی باتوں کو بھی اخبار میں پڑھتے ہیں۔ چونکہ اخباروں میں صرف گرما گرم خبروں (hot news) کو نمایاں کیا جاتا ہے ۔ اس لئے لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ جو کچھ اخبار میں چھپا ہے وہی کل بات ہے۔ حالانکہ اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں ہوتی ہیں جو اگرچہ بطور واقعہ موجود رہتی ہیں مگر اخباروں کے صفحات میں ان کو جگہ نہیں ملتی۔ اس اخباری مطالعہ نے موجودہ زمانہ میں بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر حالات میں جاننا بھی گویا نہ جاننے کے ہم معنی ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page