Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 235

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانامولانا انیس لقمان ندوی سے میں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی تاریخ صدیوں سے رکی ہوئی ہے۔ اس کا اقرار سب کو ہے۔ مگر عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام کی تاریخ کو اسلام کے دشمنوں نے روک رکھا ہے۔ مگر یہ بات لغویت کی حد تک بے بنیاد ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی تاریخ رک جانے کا واحد سبب "عزیمت" کا غلط تصور ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اقتدار کو چیلنج کرنا عزیمت ہے۔ حالانکہ قرآن میں فرمایا فاصبر كما صبر اولو العزم من الرسل۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر کا نام عزیمت ہے نہ کہ بے صبری کے ساتھ ٹکرا جانے کا۔ اصل عزیمت یہ ہے کہ ارباب اقتدار سے اعراض کرتے ہوئے دوسرے مفتوحہ میدانوں میں اسلام کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہی واحد نتیجہ خیز طریقہ ہے اور یہی دوبارہ اسلام کی تاریخ بنانے والا ہے۔ ۲۶ مارچ ۱۹۹۳ مکہ کے عربی اخبار العالم الاسلامی (۱۸ رمضان ۱۴۱۳ه ، ۲۸ فروری ۱۹۹۳ء) میں پورے ایک صفحہ پر السید الصدیق حافظ (مصر) کی نظم چھپی ہے۔ اس کا ایک شعر یہ ہے کہ تم خدا کی قسم سب سے زیادہ معزز امت ہو، اگرچہ تم فربہ لوگوں کے درمیان دبلے اور کمزور ہو: انتم لعمرا لله أكرم امة ولو انكم بين اليمان عجاف یہ شعر گویا پوری نظم کا خلاصہ ہے۔ چنانچہ اسی کے مطابق نظم کا عنوان اکرم امت مقرر کیا گیا ہے یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی عام سوچ ہے۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں عزت کا مقام کھو دیا ہے۔ اب ان کے دانشور انھیں یہ کہہ کر تسکین دلارہے ہیں کہ خدا کے نزدیک تم بہر حال معزز ہو۔ مگر یہ ایک لغو بات ہے۔ اگر مسلمان خدا کے یہاں معزز ہوں تو دنیا میں بھی لازماً ان کو عزت کا مقام ملے گا، جیسا کہ قرآن میں ہے : انتم الاعلون ان كنتم مومنین۔ ان مسلم دانشوروں کی غلطی یہ ہے کہ وہ مسلم امت اور مسلم نسل میں فرق نہیں کرتے۔ مسلم امت، اگر وہ فی الواقع مسلم ہو تو بلاشبہ وہ خیر امت ہے۔ وہ اللہ کی نصرت سے عزت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page