Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 236

By Maulana Wahiduddin Khan

اور سربلندی کا مقام حاصل کرتی ہے۔ مگر موجودہ مسلم نسل کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ان کا حکم قرآن کی اس آیت میں ہے: بل انتم بشر ممن خلق۔ زوال یافتہ قوموں کی نفسیات کا ایک جزو عدم اعتراف ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں یہ صفت بہت بڑے پیمانہ پر پیدا ہو گئی ہے۔ وہ خود اپنے عمل کے انجام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے، بلکہ اس کو دوسرے کے اوپر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ملک کی تقسیم کا مسئلہ ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے ملک کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔ اور انھیں کے مطالبہ کی بنا پر ملک تقسیم ہوا۔ مگر اب مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ملک کی تقسیم کے ذمہ دار مسلمان نہیں بلکہ ہندو ہیں۔ زیادہ عمر کے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے تعصب کی وجہ سے ملک کو تقسیم کرنا پڑا۔ ان کی نوجوان نسل کہتی ہے کہ ہم تو ۱۹۴۷ء میں پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ ہم نہیں جانتے کہ ملک کو کس نے تقسیم کرایا۔ آج انگریزی اخبار پائیر (۲۷ مارچ) میں ایک اور بات پڑھنے کو ملی۔ ایک ہندو صحافی جیوتی پنوانی (Jyoti Punwani) نے بمبئی کے جناح ہاؤس پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس سلسلہ میں بمبئی کے ایک مسلمان مسٹر رشید کے کچھ جوابات بھی انھوں نے نقل کئے ہیں۔ تقسیم کے مسئلہ کی بابت مسٹر رشید نے کہا کہ جو تقسیم ہوئی وہ انڈیا کی تقسیم نہ تھی بلکہ برٹش ایمپائر کی تقسیم تھی۔ انڈیا تو ۱۹۴۷ء تک موجود ہی نہ تھا: India was not partitioned; the British empire was. India wasn't a country till 1947. اس قسم کی باتیں میرے نزدیک کینہ پن کی حد تک غلط ہیں۔ ایسی لغو باتوں کا واحد انجام یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی فضا کبھی ختم نہ ہو اور ملک میں وہ معتدل ماحول پیدا نہ ہو جس میں مسلمان ترقی کی طرف اپنا سفر شروع کر سکیں۔ بہت سے الفاظ ایسے ہیں جو گرہر کے لحاظ سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے بالکل غلط ہوتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page