آغازِ کلام
Urdu book, p. 237
By Maulana Wahiduddin Khan
قومی آواز (۷ مارچ) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رابطہ کمیٹی اترپردیش کا اصلاحی کارواں علی گڑھ سے چل کر دیو بند، بجنور، سہارن پور، مراد آباد ہوتا ہوا رام پور پہنچا۔ یہاں شہر کی جامع مسجد میں ایک جلسہ ہوا جس میں مختلف لوگوں نے تقریریں۔ مقامی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری سلیم الباری نے اس کارواں کا مقصد ملت میں پھیلی ہوئی برائیوں کو دور کرنا اور معاشرہ کی اصلاح کرنا بتایا۔ مدرسہ شاہی مراد آباد کے مولانا حافظ الرحمان صاحب نے کہا کہ ہمارے معاشرہ میں شراب کی لعنت عام ہوتی جارہی ہے۔ پورے معاشرہ میں اگر ایک شخص بھی شرابی ہے تو وہ معاشرہ کے لئے ناسور ہے۔ کیوں کہ اس اکیلے شرابی کی اوچھی حرکتوں کی سزا پوری قوم کو بھگتنی پڑتی ہے۔ (صفحہ ۵) مولاناموصوف جوش خطابت میں بھول گئے کہ شرابی افراد تو خود زمانہ رسالت میں اور عہد خلافت راشدہ میں موجود تھے۔ پھر ہمارے پاس وہ کون سی خصوصی طاقت ہے جس کے ذریعہ ہم شراب کا اس طرح خاتمہ کریں کہ معاشرہ میں ایک بھی شراب نوش باقی نہ رہے۔ یہ صحیح ہے کہ ایک یا چند غلط افراد ہی فساد برپا کرتے ہیں۔ مگر اس کا حل یہ نہیں کہ غلط کار افراد کو ایک ایک کرکے مٹا دیا جائے۔ اصل یہ ہے کہ اصلاح معاشرہ کی کوشش کرتے ہوئے ہمیں یہ کرنا ہے کہ ہر بستی اور ہر شہر میں ایسی کمیٹیاں بنائیں جو معاشرتی نگراں کا کام کریں۔ جہاں بھی کچھ غلط افراد مسئلہ پیدا کریں وہاں پہنچ کر معاملہ کو سلجھانے کی کوشش کریں۔ مثال کے طور پر ہندوستان کا فرقہ وارانہ فساد زیادہ تر اس طرح ہوتا ہے کہ ہندوؤں کا جلوس سڑک پر نکلتا ہے۔ جب وہ مسلم محلہ میں پہنچتا ہے تو کچھ غلط یا غیر سنجیدہ افراد سامنے آکر جلوس کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے جلوس نزاع کی صورت اختیار کرتا ہے اور نزاع بالآخر خونیں فساد بن جاتا ہے۔ ایسے موقع پر کرنے کا کام یہ ہے کہ فورا بستی کے کچھ سنجیدہ افراد حرکت میں آجائیں وہ موقع پر پہنچ کر مسلم نوجوانوں کو روکیں۔ فساد روکنے کی یہی واحد تدبیر ہے۔ کسی معاملہ میں اصول کو جاننا صرف اس وقت مفید ہے جبکہ آدمی اس کے عمل انطباق کو جانتا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader