Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۸ مارچ کو نئی دہلی کے برلا ہاؤس میں ایک میٹنگ تھی۔ مجھے اس میں بلایا گیا تھا۔ یہاں سابق مرکزی وزیر اسپچ کے ایل بھگت (۷۰ سال) نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ۱۹۲۷ سے پہلے میں لاہور میں پڑھتا تھا۔ ایک باری میں نے راجہ غضنفر علی خان (لیڈ یونینسٹ پارٹی) سے پوچھا کہ کیا پاکستان بنے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہندو چاہیں گے تو بن جائے گا، ہندو نہیں چاہیں گے تو نہیں بنے گا۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ ہندو اگر تقسیم کی مخالفت کریں گے تو یہ تحریک زور پکڑے گی اور پاکستان بن جائے گا۔ لیکن اگر ہندوؤں نے اس کو نظر انداز کیا تو تحریک زیادہ نہیں بڑھے گی اور پاکستان بھی نہیں بنے گا۔ یہ جواب اصولی طور پر بالکل درست ہے۔ یہ اس بات کی تشریح ہے جو حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ : امیتوا الباطل بالصمت عنه۔ میں خود ذاتی طور پر اس کا تجربہ کر رہا ہوں۔ میری مخالفت میں زبردست طوفان اٹھایا گیا۔ کتابیں چھاپی گئیں۔ مستقل رسالے نکالے گئے۔ برے خلاف اتنا پروپیگنڈہ کیا گیا کہ میں یورپ، امریکہ، عرب اور افریقہ جہاں بھی گیا وہاں اس کا چرچا سنائی دیا۔ مگر میں نے کامل خاموشی اختیار کر لی۔ اب خدا کے فضل سے مخالفت کا یہ حال ہے کہ جیسے کسی غبارے سے اس کی ہوا نکل گئی ہو۔ ۳۰ مارچ ۱۹۹۳ کویت کا ماہنامہ الوعی الاسلامی (شوال ۱۴۱۳ ھ ، مارچ ۱۹۹۲) ڈاک سے موصول وصول ہوا۔ اس کے صفحہ ۴۶-۴۷ پر محمود مفلح کی نظم ہے جس کا عنوان ہے: لماذا المسلمون کا ایک شعر یہ ہے کہ میرا خون ہر طرف بہہ رہا ہے، اور میرے ہی بھائی دھمکائے جا رہے ہیں، اور قتل کئے جا رہے ہیں؛ دمی فی كل ناحية يسيل واخوتي المشرد والقتيل مجلہ کے صفحہ ۹۸ پر ہے کہ مسلمان اس وقت دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ ہیں۔ تازہ اعداد و شمار مطابق، دنیا بھر میں ان کی تعداد ایک بلین اور دو بلین تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے باوجود کا یہ حال ہے۔ اس کا جواب استاد محمد بور اس نے یہ دیا ہے کہ ، مالک بن نبی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page