Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 239

By Maulana Wahiduddin Khan

الفاظ میں، مسلمانوں کے اندر الایمان الفاعل موجود نہیں۔ یہ جواب درست نہیں۔ کیونکہ پچھلے دوسوسال سے مسلمان ساری دنیا میں اسلام کے نام پر بے شمار قربانیاں دے رہے ہیں۔ اگر ایمان فاعل موجود نہ ہو تو وہ قربانی کیسے دے سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے وہ صرف ایک ناقابل معافی جرم کا نتیجہ ہے اور وہ ہے مدعو قوموں کو دشمن قرار دے کر ان کے خلاف لڑائی چھیڑ دینا۔ مدعو قوموں کی زیادتی پر مسلمانوں کو صبر کرنا تھا، مگر وہ مشتعل ہو کر ان سے لڑنے لگے۔ ۳۱ مارچ ۱۹۹۳ مسٹر انل نوریا (Anil Nauriya) ایڈوکیٹ سپریم کورٹ سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہندو مسلم میل ملاپ کا کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کئی فرقہ وارانہ فساد کو تدبیر کر کے روکا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ بتائیے کہ ہند ومسلم جھگڑے کی جڑ کیا ہے۔ انھوں نے فوراً جواب دیا: Lack of communication. انھوں نے کہا کہ دوری کی وجہ سے دونوں طرف یہ ہوتا ہے کہ ہر الٹی بات کا لوگ یقین کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح دونوں طرف اسٹیریو ٹائپ بن جاتے ہیں۔ اگر آپ دونوں فرقوں کو ایک دوسرے کی صحیح بات بتائیں تو اسٹیریو ٹائپ اپنے آپ ٹوٹ جائیں گے اور تعلقات نارمل ہو جائیں گے۔ میں نے کہا یہ بالکل درست ہے اور یہی اس معاملہ میں اصل بات ہے۔ یکم اپریل ۱۹۹۳ ۲۳ مارچ ۱۹۳۰ کو لاہور میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے پاکستانی روزنامہ نوائے وقت نے ۲۳ مارچ ۱۹۹۳ کا شمارہ "یوم پاکستان ایڈیشن" کے طور پر نکالا ہے۔ اس میں مختلف مضامین ہیں۔ ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ اس زمانہ میں میاں بشیر احمد نے ایک نظم لکھی تھی جس کا یہ شعر ہر طرف گونج رہا تھا: ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح ایڈیٹوریل نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ قا ئد اعظم کی نظر میں پوری دنیا کے اسلام پر تھیں۔ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page