Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 240

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا جو اس وقت مغربی استعمار کے خونخوار پنجہ میں گرفتارتی۔ پاکستان اسلام کی غلام مملکتوں میں آزاد ہونے والا پہلا ملک تھا۔ یہ پاکستان عظیم الشان فقط برعظیم پاک ہندی کے مسلمانوں کا وطن اور حصار نہیں۔ قائد اعظم نے فرمایا تھا پاکستان پورے عالم اسلام کا حصار اور انحصارہے، ان کا جملہ یہ ہے : Pakistan is the fortress of Islam. مگر حال یہ ہے کہ تقریباً نصف صدی گزرنے کے باوجود پاکستان نہ مسلمانوں کا حصار نہ سکا اور نہ اسلام کا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے قائدین کے بولے ہوئے الفاظ کو جانتے ہیں مگر وہ تاریخ کی حقیقتوں کو نہیں جانتے۔ مسلمانوں کی اسی بے خبری نے ان کو موجودہ زمانہ میں تباہ کر رکھا ہے۔ اس قسم کے الفاظ ہمیشہ فضا میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔ قوموں کے مستقبل کو جو چیز بناتی ہے وہ تاریخ کی حقیقتیں ہیں۔ مسلمان چونکہ تاریخی حقیقتوں سے بے خبر ہیں اس لئے وہ ان کے مطابق اپنا ملی منصوبہ بھی نہیں بنا پاتے۔ وہ صرف اپنے قائدین کے شاندار الفاظ میں گم رہتے ہیں۔ اور کسی انسان کے شاندار الفاظ کسی قوم کے مستقبل کی تعمیر کرنے والے نہیں۔ ۱۲ اپریل ۱۹۹۳ء چینی لیڈر ماؤزی تنگ (۱۹۷۶-۱۸۹۳) نہایت سخت گیر آدمی تھا۔ تاہم اس نے بعض باتیں نہایت عمدہ کہی ہیں۔ اس کا ایک قول تھا کہ کسی اشو کو پرستیج اشو نہ بناؤ۔ یہ بہت با معنی بات ہے۔ پرستیج اشو (وقار کا مسئلہ) بنانے سے پہلے معاملہ اپنے فطری دائرہ میں رہتا ہے۔ مگر جب معاملہ کو پرستیج اشو تک پہنچا دیا جائے تو معاملہ اپنے فطری دائرہ سے باہر نکل جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک سادہ معاملہ اتنا زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے جس کو کبھی حل ہی نہ کیا جا سکے ۔ ۱۳ اپریل ۱۹۹۳ء جس زمانہ میں اجودھیا مسئلہ کا زور تھا، مسٹرایل کے اڈوانی اکثر کہا کرتے تھے کہ مجھے ہندو ہونے پر فخر ہے۔ مگر میں ہندو مذہب پر عمل نہیں کرتا۔ ان کا یہ جملہ انگریزی اخبار میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page