آغازِ کلام
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
ابراہیم النخعی ایک محدث ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ جو شخص چاہتا ہے کہ وہ حدیث کا عالم بنے اس کو چاہیے کہ وہ حدیث کا تذکرہ کرتا رہے ۔ حتیٰ کہ ان لوگوں سے بھی جو اس کو پسند نہ کرتے ہوں (من سرہ ان يحفظ الحديث فليحدث به، و لو ان يحدیث بہ من لا يشتهيه ) النظرات التعليمیہ عند المحدثين ، صفحہ ۹۳ اکثر لوگ اپنے ہم خیال لوگوں سے مذاکرہ پسند کرتے ہیں۔ اس کی بھی ایک اہمیت ہے۔ لیکن غیر ہم خیال لوگوں سے مذاکرہ اور بھی زیادہ مفید ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے مسئلہ کے مزید پہلو سامنے آتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں اپنے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور زیادہ پختگی حاصل ہوتی ہے۔ ۱۰ فروری ۱۹۹۳ میرٹھ کے کچھ مسلمان آئے۔ انھوں نے کہا کہ ٦ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد ڈھانے سے پہلے آپ یہ کہتے تھے کہ شانتی کے اصول پر اس مسئلہ کو حل کیا جائے۔ ٦ دسمبر کے بعد آپ اس مسئلہ کے حل کے لئے تین نکاتی فارمولا پیش کر رہے ہیں۔ یہ فرق کیوں۔ میں نے کہا کہ فقہ کا بنیادی اصول ہے کہ حالات کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ ٦ دسمبر سے پہلے ہمارے لئے بابری مسجد کو بچانے کا مسئلہ تھا۔ اب ہمارے سامنے ملت مسلمہ کو بچانے کا مسئلہ ہے۔ ٦ دسمبر کو انھوں نے بابری مسجد اس طرح ڈ ڈھائی کہ اس کا پتھر تک ہٹا کر دور پھینک دیا۔ اور اس کے بعد عین اسی مقام پر ایک عارضی مندر بنا دیا جہاں روز انہ پوجا ہو رہی ہے۔ اس کے بعد صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ اب ہمارے لئے انتخاب مندر اور مسجد میں نہیں ہے۔ بلکہ مندر اور تباہی ہے۔ ایسی حالت میں میں نے وہ اصول اپنایا ہے جس کو حدیث میں اختیار الیسر کہا گیا ہے۔ بابری مسجد کے مسئلہ کے حل کے لئے میں نے جو تھری پوائنٹ فارمولا پیش کیا ہے اس کا آجکل پورے ملک میں ہر طرف چرچا ہے۔ ایک مسلمان نے کہا کہ آپ نے جو تین نکات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader