Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 241

By Maulana Wahiduddin Khan

At the height of the Ayodhya controversy Mr. L.K. Advani used to say that he was a proud Hindu, but not a practising Hindu. (p. 14) ٹائمز آف انڈیا (۳ اپریل)، یہی معاملہ ان مسلمانوں کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مجھے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ یہ لوگ بھی حقیقی اسلام پر عامل نہیں ہیں۔ البتہ اسلام کی شاندار تاریخ سے اپنے آپ کو وابستہ کر کے اس سے قومی فخر کی غذا لے رہے ہیں۔ یہ کہنا خود غیر اسلامی ہے کہ "مجھے مسلمان ہونے پر فخر ہے"۔ حقیقی اسلام تواضع اور عبدیت کی روح پیدا کرتا ہے۔ جس آدمی کے اندر حقیقی اسلام کی اسپرٹ پیدا ہو جائے اس کی زبان سے تواضع کے کلمات نکلیں گے نہ کہ فخر و مباہات کے کلمات۔ ۴ اپریل ۱۹۹۳ جمیل احمد صاحب جماعت اسلامی مدراس کے امیر ہیں۔ ان کا وطن وانمباڑی ہے۔ مگر وہ شہر مدراس میں رہتے ہیں۔ مدراس میں ان کے گھر کا ٹیلیفون نمبر یہ ہے: 585623 غالباً ۱۹۷۳ء کا واقعہ ہے۔ وانمباڑی میں ایک عیسائی اپنی بیوی کے ساتھ آیا۔ وہ سروس میں تھا۔ وہاں وہ برکت آپارٹمنٹس میں ایک فلیٹ لے کر رہنے لگا۔ مرد کا نام جوزف اور عورت کا نام میری تھا۔ وانمباڑی کے زمانہ قیام میں جوزف اسلام سے متاثر ہو گیا۔ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ مگر بیوی نے کہا کہ میں اپنے ماں باپ کا مذہب نہیں چھوڑوں گی۔ تاہم دونوں میں میاں بیوی کا تعلق باقی رہا۔ وہ جس مکان میں کرایہ دار تھا وہ مسلمان کا مکان تھا۔ کچھ مسلمانوں نے کہنا شروع کیا کہ جوزف کے لئے اس کی بیوی حرام ہو گئی۔ مگر اس نے اب تک اپنی بیوی کو نہیں چھوڑا۔ اس طرح وہ فعل حرام کا مرتکب ہورہا ہے۔ اس کو اس مکان سے نکال دینا چاہئے۔ چنانچہ مالک مکان نے اس سے مطالبہ کیا کہ تم میرا مکان خالی کر دو۔ جوزف روتا ہوا جمیل احمد صاحب کے پاس آیا۔ انھوں نے مکان دار سے کہا کہ جوزف کی بیوی تو کتابیہ ہے، پھر وہ اس کے لئے حرام کیسے ہو سکتی ہے۔ مکان دار نے کہا کہ علماء کا فتوی لاؤ تو میں مانوں گا۔ جمیل احمد صاحب مقامی علماء کے پاس گئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کا کہنا صحیح ہے۔ مگر جب تک نظیرہ نہ ہو، ہم فتوی نہیں دے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page