آغازِ کلام
Urdu book, p. 242
By Maulana Wahiduddin Khan
سکتے۔ اس کے بعد جمیل احمد صاحب نے کوشش کر کے ایک کتاب میں نظیر تلاش کی۔ یہ کتاب انھیں دکھائی۔ اس کو دیکھنے کے بعد انھوں نے فتویٰ لکھ کر دیا۔ جوزف اب مدراس میں رہ رہا ہے۔ اس نے اپنا نام یوسف رکھ لیا ہے، تقریباً ڈیڑھ سال بعد اس کی بیوی نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ اس کا نام مریم رکھ دیا گیا۔ جمیل احمد صاحب نے بتایا کہ مسلمانوں کے اسی قسم کے رویہ کی بنا پر مولانا حامد علی صاحب کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے لئے ممکن ہوتا کہ نو مسلموں کو ہم اسلام قبول کرنے کے بعد چاند پر بھیج سکیں تو ہم ان کو چاند پر بھیج دیتے۔ ۵ اپریل ۱۹۹۲ سخت کرب کے عالم میں یہ جملہ میری زبان سے نکلا ــــ اگر یہ کہا جائے کہ خدا نہیں ہے تو ساری کائنات ناقابلِ فہم بن جاتی ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ خدا ہے تو میرا وجود ناقابلِ فہم نظر آنے لگتا ہے۔ ۶ اپریل ۱۹۹۳ موجودہ زمانہ کے مسلمان جس سب سے بڑے نقصان سے دوچار ہوئے ہیں وہ انسانی فطرت سے بدگمانی ہے۔ اسی بدگمانی کا یہ نتیجہ ہے کہ اب ان کے اندر صرف وہ منفی تحریکیں زور پکڑتی ہیں جو کسی مسلم دشمن کے خلاف اٹھائی گئی ہوں۔ جو تحریک کسی مثبت بنیاد پر اٹھائی جائے اس کو موجودہ مسلمانوں کے درمیان مقبولیت حاصل نہیں ہوتی۔ اس نفسیات نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو بے شمار نقصانات پہنچائے ہیں۔ اسی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی شخص کے بارہ میں کہا جائے کہ وہ اسلام دشمن طاقت کا ایجنٹ ہے تو مسلمان بلا تحقیق اس پر یقین کرلیں گے۔ اس نفسیات نے مسلمانوں کو اس صلاحیت سے محروم کر دیا ہے کہ وہ اپنے دوست اور دشمن کو پہچان سکیں۔ مسلمانوں میں ایک قول بہت مشہور اور مقبول ہے ــــ عیسائی مسلمانوں کے ایمان کے دشمن ہیں اور یہودی مسلمانوں کی جان کے دشمن ہیں۔ مگر میرے نزدیک دونوں ہی لغو ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader