آغازِ کلام
Urdu book, p. 243
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح کی بے بنیاد باتوں نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی علیٰ قوت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی کسی کا دشمن نہیں۔ ہر آدمی صرف اپنے مفاد کا دوست ہے۔ اس میں شاید صرف موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا استثناء ہے جو اپنے مفاد کے دوست بھی نہیں۔ ۸ اپریل ۱۹۹۳ کتاب "عظمتِ اسلام" تیار ہوگئی ہے۔ جلد ہی انشا اللہ پریس میں جائے گی۔ اس کے ٹائٹل کی پشت کے لئے حسب ذیل مضمون لکھ کر آفس کو دیا : اسلام کی سب سے بڑی طاقت اس کی فکری اور نظریاتی برتری ہے۔ ایک طرف وہ اہل زبان کو اس اعلیٰ ذہنی سطح پر جینے کے قابل بناتا ہے جس سے زیادہ اعلیٰ ذہنی سطح اس دنیا میں کوئی نہیں۔ دوسری طرف موجودہ مسابقت کی دنیا میں وہ اہل ایمان کی ابدی برتری کی ضمانت ہے۔ دوسرے اگر مادی سپر پاود میں تو اسلام نظریاتی سپر پاود۔ اور نظریاتی فوقیت بلاشبہ ہر دوسری فوقیت سے زیادہ عظیم ہے۔ ۹ اپریل ۱۹۹۳ دو چیزیں آدمی کو برائی سے روکتی ہیں ۔ ایک حیا اور دوسرے اندیشہ کمال جس آدمی کے اندر ان دونوں میں سے کوئی بات نہ رہے ۔ وہ ہر برائی کے لئے ڈھیٹ ہو جائے گا۔ اسی بات کو ایک عرب شاعر نے ایک حدیث کو شامل کرتے ہوئے اس طرح کہا ہے اگر تم کو انجام کار کا ڈر نہ ہو اور نہ تمہارے اندر شرم و حیا ہو تو پھر جو تمہارے جی میں آئے کرو: اذا لم تخش عاقبة الليالى ولم تستحي فاصنع ما تشاء ۱۰ اپریل ۱۹۹۳ عبدالرحمان کو ندو کشمیری نے بتایا کہ ۲۶ مارچ کو وہ سرینگر سے دہلی آرہے تھے۔ سرینگر سے جموں تک انھوں نے بس سے سفر کیا۔ اس دن، ہولی کا تہوار تھا۔ راستہ میں ایک جگہ سامنے سے ایک ٹرک آیا جس کا ڈرائیور ہندو تھا۔ اس نے بس کے مسلمان ڈرائیور کی طرف پانی پھینک دیا۔ اس پر مسلمان ڈرائیور غصہ ہوگیا۔ پہلے اس نے سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اس کو برا بھلا کہا۔ ہندو ڈرائیور نے بھی جواب دیا۔ اب مسلمان ڈرائیور بس سے اتر پڑا۔ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader