آغازِ کلام
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتھ پانچ چھ مسلمان مسافر بھی اس کی حمایت میں اتر گئے ۔ اب دونوں میں جھگڑا ہونے لگا ۔ ہاتھا پائی بھی ہوئی ۔ اتنے میں بی ایس ایف کی ایک گاڑی آگئی۔ یہ منظر دیکھ کر وہ لوگ اتر گئے۔ انھوں نے حالات پوچھے ۔ اس کے بعد انھوں نے مسلمان ڈرائیور کو غلط بتا کر اس کو مارنا شروع کیا۔ اب مسلمان ڈرائیور گھبرا گیا۔ وہ بھاگ کر اپنی بس میں آیا اور اس کو نہایت تیزی کے ساتھ بھگانا شروع کیا۔ حتی کہ ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ ایکسیڈنٹ کر دے گا۔ مسلمان ڈرائیور نے ان مسلم مسافروں کو بھی سڑک پر چھوڑ دیا جو اس کی حمایت میں اترے تھے ۔ عبدالرحمن کو ندوی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈرائیور نے اگر چند قطرے پانی کو برداشت کر لیا ہوتا تو وہ اس ذلت اور مار سے بچ جاتا ۔ مگر یہی وہ بات ہے جو ہماری قوم کو نہیں معلوم۔ ۱۱ اپریل ۱۹۹۳ مولانا اکبر الدین قاسمی نے بتایا کہ ۱۹۶۵ میں مولانا ابو الحسن علی ندوی آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے جلسوں میں کثرت سے جاتے تھے۔ اس وقت مجلس مشاورت کا نگریس کو ہر اڑ کی ہم چلا رہی تھی۔ مولانا علی میاں کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ حکمران پارٹی کو ضرر پہنچائیں۔ یعنی الکشن میں اس کے خلاف ووٹ دے کر اس کو ہرائیں۔ اس طرح لیڈروں کو ہوش آئے گا اور وہ مسلمانوں کے مسائل کو حل کر دیں گے۔ ان تقریروں میں مولانا علی میاں اکثر یہ شعر پڑھتے تھے : حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے اگر کانٹوں میں ہو خومئے حریر ہی قرآن میں حفاظت کار از دعوت الی اللہ میں بتایا گیا ہے ( واللہ یعصمك من الناس) مگر موجودہ زمانہ کے نادان رہنما مسلمانوں کو یہ سبق دے رہے ہیں کہ وہ لوگوں کو ضرر پہنچا کر اپنے تحفظ کا بندوبست کریں۔ مولانا اکبر الدین قاسمی اور حیدر آباد کے دو اور عالم ملاقات کے لئے۔ مولانا اکبر الدین قاسمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader