آغازِ کلام
Urdu book, p. 245
By Maulana Wahiduddin Khan
دارالعلوم حیدر آباد میں استاد ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جنوری ۱۹۹۳ میں مدرسہ میں ایک واقعہ ہوا۔ مدرسہ کی زمین پر ابھی تک تار کی معمولی فنسنگ تھی۔ اب چاروں طرف پتھر کی مضبوط باؤنڈری بنائی گئی ہے۔ باؤنڈری کی دیوار بننا شروع ہوئی تو پڑوس کے ایک ہندو نے کام رکوا دیا۔ اس نے کہا کہ آپ لوگوں نے آگے بڑھ کر میری زمین کو باؤنڈری کے اندر لے لیا ہے۔ پانچ فٹ چوڑی اور دس فٹ لمبی زمین کو اس نے اپنی زمین بتایا۔ مدرسہ والے راقم الحروف پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ میں مسلمانوں کو بزدلی کا سبق دے رہا ہوں۔ مگر مدرسہ کے ذمہ داروں نے یہ نہیں کیا کہ اس کے بعد لڑکوں کو جمع کرکے ہندو کے خلاف جہاد شروع کر دیں۔ اس کے بعد مدرسہ کے ذمہ دار جناب رحیم الدین انصاری نے شاندار دعوت کا انتظام کیا اور مذکورہ ہندو کو اس میں بلایا۔ اس دعوت میں مولانا اکبر الدین قاسمی بھی شریک تھے۔ کھانے کے بعد اس ہندو کو پورا مدرسہ دکھایا۔ اور بتایا کہ دیکھتے ہم یہاں غریب بچوں کو تعلیم دلا رہے ہیں۔ یہاں ہم ایک مفید قومی کام کر رہے ہیں۔ وغیرہ اس کے بعد انھوں نے ہندو سے کہا کہ ہم آپ سے جھگڑا کرنا نہیں چاہتے۔ اگر آپ اصرار کریں گے تو ہم دیوار گرا دیں گے اور وہاں بنائیں گے جہاں سے آپ کہہ رہے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ ہم سے اس زمین کا معاوضہ لے لیں۔ ہندو کا دل نرم ہو چکا تھا، اس نے کہا کہ اب جو دیوار بن گئی ہے اس کو باقی رہنے دیجئے، مگر آئندہ ایسی غلطی نہیں ہونی چاہئے۔ اس نے زمین کا معاوضہ بھی نہیں لیا۔ ۱۳ اپریل ۱۹۹۳ نئی دہلی کے امریکی سفارتخانہ کے فرسٹ سکریٹری (.Eugene D. Price, Jr) آج ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ انگریزی اخبارات میں میرے مضامین انھوں نے پڑھے ہیں۔ اس کی وجہ سے انھیں مجھ سے ملاقات کا شوق پیدا ہوا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے خیالات عام مسلم رہنماؤں سے مختلف ہیں۔ پھر مسلمانوں کے درمیان آپ کے خیالات کا رد عمل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک میری دوسری کتابوں کا تعلق ہے، وہ عام طور پر بہت پسند کی جاتی ہیں۔ مگر قومی مسائل پر میں جو کچھ لکھتا ہوں، اس سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader