آغازِ کلام
Urdu book, p. 246
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ مسلمان برہم ہیں۔ حتیٰ کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو مجھ کو سی آئی اے کا ایجنٹ بتاتے ہیں۔ حالانکہ آپ امریکی سفارتخانہ کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ ایک لغو الزام ہے۔ اور میرا سی آئی اے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات سن کر وہ ہنسنے لگے۔ ان کو سخت تعجب ہوا کہ یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو میرے اوپر ایسے بے بنیاد الزام لگاتے ہیں۔ ۱۳ اپریل ۱۹۹۳ اسلام کی دعوت کس طرح دی جائے ۔ اس معاملہ میں مختلف رائیں ہیں۔ تبلیغی جماعت کا کہنا ہے کہ پہلے مسلمانوں کو درست کرو ۔ اس کے بعد ان کے ذریعہ ہندوؤں میں دعوت پہنچاؤ۔ جماعت اسلامی کا ٹریپر کہتا ہے کہ اسلام کو مکمل نظام حیات کی حیثیت سے نافذ کرو تا کہ اس کو دیکھ کر لوگ اسلام قبول کریں۔ شمس نوید عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ ہندو قوم قوم نوح ہے۔ ہندو قوم کو اس کی اپنی مذہبی کتابوں کی روشنی میں انہی کی کتابوں کے رخ سے اسلام کی طرف بلایا جائے۔ وغیرہ میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمان برادران وطن سے ہر قسم کے فرقہ وارانہ نزاع یکطرفہ طور پر ختم کر دیں۔ وہ ایذا نہ پہنچائیں تب بھی مسلمان صبر و اعراض کریں۔ اس طرح یکطرفہ قربانی کے ذریعہ داعی اور مدعو کے درمیان نارمل حالت پیدا کی جائے اور دونوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعلقات بڑھائے جائیں۔ اس کے بعد دعوت کا عمل اپنے فطری انداز میں خود بخود جاری ہو جائے گا۔ یہی دور اول میں صلح حدیبیہ کے بعد ہوا تھا۔ تاتاریوں کے زمانہ میں یہی پیش آیا۔ خود ہندوستان میں ۱۹۴۷ سے پہلے یہی عمل جاری تھا۔ مگر دو قومی تحریک نے سارا معاملہ بگاڑ دیا۔ ۱۵ اپریل ۱۹۹۳ پاکستانی اخبار نوائے وقت (۷ اپریل ۱۹۹۳) میں ایک مضمون پڑھا۔ لکھنے والے مسٹر طاہر ملک ہیں۔ اور اس کا عنوان ہے : مسئلہ کشمیر پر سنجیدگی اختیار کیجئے ۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے : " بھارتی کشمیر سے بھاگ کر آنے والے کشمیری مہاجرین آزاد کشمیر کے کیمپوں میں مقیم ہیں۔ مہاجرین کو بستی کیمپوں میں نمایش بنا کر رکھا گیا۔ انھیں سرکاری فقیر بنا دیا گیا ہے۔ ہر مہاجر کو ۵۰۰ روپیہ کے قریب ماہ بہار امداد ملتی ہے۔ مہاجرین سارا دن کیمپوں میں رہتے ہیں۔ ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader