آغازِ کلام
Urdu book, p. 247
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لئے مثبت سرگرمیوں کا کوئی انتظام نہیں۔ مہاجرین کو سکھایا گیا ہے کہ ہر آنے والے ملکی یا غیر ملکی فرد کو صرف اور صرف بھارتی مظالم بتاؤ اور باقی وقت آرام کرو۔ بھارت کے خلاف نفرت اور ظلم کی باتیں پھیلانا ، یہی پاکستان کی خارجہ سیاست کا اہم ترین رکن ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ مگر پاکستان کا پورا میڈیا گواہی دیتا ہے کہ اس کے پاس نفرت کے سوا جینے کے لئے اور کوئی بنیاد نہیں۔ ۱۲ اپریل ۱۹۹۳ ماہنامہ الفرقان (جنوری ۱۹۹۳) میں سید عبداللہ طارق رامپوری کا مضمون مولانا شمس نوید عثمانی کے بارہ میں چھپا ہے۔ اس میں مولانا مرحوم کے بہت سے واقعات و حالات درج کئے ہیں۔ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں کہ مولانا شمس نوید عثمانی کا حال یہ تھا کہ رات میں اگر بتی گل ہو جاتی تو انا للہ پڑھتے ہی ہمیشہ یہ فقرہ بولتے : ایک دن ہماری زندگی کا چراغ بھی اسی طرح گل ہو جائے گا۔ (صفحہ ۳۵) موت کا استحضار ہو تو ہر واقعہ اسی طرح آخرت کی یاد دلانے والا بن جاتا ہے۔ ۱۱۰ اپریل ۱۹۹۳ ۱۷۔ ۷ اپریل کو میں ناگپور میں تھا۔ وہاں پہلی بار آرایس ایس کے ہیڈ کوارٹر میں جانا ہوا ۔ میرے ساتھ دو اور سلمان تھے۔ جب میں وہاں سے واپس آیا اور ہم لوگ قیام گاہ پر بیٹھے تو گفت گو کے دوران معلوم ہوا کہ دونوں صاحبان نے منفی رائے قائم کی ہے۔ ایک صاحب کی رائے یہ تھی کہ یہ لوگ نہایت غیر مہذب ہیں۔ وہ کپڑا پہننا بھی نہیں جانتے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ وہاں اکثر لوگ جانگھیے پہنے ہوئے تھے۔ جب ہم لوگ پہنچے تو دوڑ کر کسی نے تولیہ لپیٹ لی اور کسی نے چادر لپیٹ لی۔ دوسرے سلمان نے کہا کہ وہاں تو سب بوڑھے اور ریٹائر ڈ لوگ تھے۔ مجھے تو یہ سنٹر ایک قبرستان جیسا دکھائی دیا۔ اس کے برعکس میرے ذہن میں ایک مثبت تصویر بنی۔ میں نے ان لوگوں سے کئی مثبت سبق سیکھے۔ مثلاً میں نے یہ معلوم کیا کہ آرایس ایس والوں کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اپنی تعلیم کو مکمل کرو، اس کے بعد پارٹی کے کام میں لگو۔ اس تجربہ سے اندازہ ہوا کہ مسلمان عام طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader