Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

منفی سوچ والے کیوں ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس سوچنے کے لئے اس کے سوا کوئی اور ڈھنگ موجود نہیں۔ خدا ابرداشت کر رہا ہے، پھر ہم کیوں برداشت نہیں کر سکتے۔ مسجد والوں کو اگر مندر کو دیکھ کر غصہ آئے تو انھیں سوچنا چاہئے کہ خدا مندر کو برداشت کر رہا ہے، اسی لئے تو مندر کھڑا ہوا ہے۔ ورنہ دنیا میں مندر کا وجود ہی نہ ہوتا۔ اسی طرح اگر مندر والوں کو مسجد کو دیکھ کر غصہ آئے تو ان کو سوچنا چاہئے کہ بھگوان مسجد کو برداشت کر رہا ہے، اگر وہ برداشت نہ کرتا تو دنیا میں مسجد کا وجود نہ ہوتا۔ لوگ اگر اس طرح سوچیں تو اپنے آپ دنگا فساد ختم ہو جائے۔ ۱۹ اپریل ۱۹۹۲ ڈاکٹر احمد سلطان صاحب بنگلور کے رہنے والے ہیں۔ دہلی میں انھوں نے ملاقات کے دوران بتایا کہ مارچ ۱۹۹۳ میں بنگلور میں یہ واقعہ ہوا کہ پولیس ایک مسلمان لڑکے کو پکڑ کر لے گئی۔ اس کا نام محمد حسین تھا۔ یہ لڑکا داداؤں کے ساتھ رہتا تھا۔ اس پر غنڈہ گردی کا الزام لگایا گیا۔ محمد حسین کی پارٹی کے لڑکوں نے شور و غل کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اکٹھا ہو گئی۔ ان کا ارادہ تھا کہ جلوس کی صورت میں پولیس اسٹیشن جائیں اور وہاں آگ لگا دیں۔ ڈاکٹر احمد سلطان ان نوجوانوں سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ آپ پولیس اسٹیشن کو جلائیں گے تو بات بڑھے گی اور مسلمانوں پر مزید ظلم ہوگا۔ نوجوانوں نے کہا کہ ہم حق پر ہیں۔ پھر ہم کیوں چپ رہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے سمجھایا کہ اقدام کے لئے صرف حق پر ہونا کافی نہیں۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آخر آپ کیا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے آدمی کو وہ لوگ چھوڑ دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اچھا آپ تھوڑی دیر کے لئے ٹھہریئے اور مجھے پرامن کوشش کا موقع دیجئے ۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے بنگلور کے کمشنر پولیس مسٹر جے پرکاش کو ٹیلی فون کیا۔ اور کہا کہ یہاں صورت حال بہت نازک ہے، آپ فوراً آجائیں۔ انھوں نے کہا کہ میری گاڑی اس وقت موجود نہیں ہے۔ کچھ دیر آپ کو انتظار کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی گاڑی بھیج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page