آغازِ کلام
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
دی اور وہ فوراً آگئے ۔ معاملہ کو سمجھنے کے بعد وہ فور آپولیس اسٹیشن گئے۔ محمد حسین کو اسی وقت رہا کر دیا اور اس کو دو ہزار روپیہ بھی علاج کے نام پر دیا۔ جس انسپکٹر نے اس کو گرفتار کیا تھا اس کو فوراً معطل کر دیا۔ اس طرح ایک فساد ہوتے ہوتے رہ گیا۔ مسلمان اگر خود سے کارروائی کرنے کے لئے نہ اٹھیں بلکہ امن و قانون کے دائرہ میں رہ کر معاملہ کو حل کرنے کی کوشش کریں تو ہر معاملہ نہایت آسانی سے حل ہو جائے اور کبھی فساد تک نہ پہنچے۔ ۲۰ اپریل ۱۹۹۴۳ میمن عبدالغفار دادا بھائی (۵۷ سال) احمد آباد میں رہتے ہیں اور ٹسٹینگ سے جڑے ہوئے ہیں۔ آج وہ ایک اور صاحب کے ساتھ ملاقات کے لئے آئے ۔ انھوں نے بتایا کہ مسجد اقصی میں آگ لگنے کے بعد احمد آباد میں مسلمانوں کا جلوس نکلا۔ اس جلوس کو نکالنے میں جماعت اسلامی جمعیۃ العلما، وغیرہ سب مسلم جماعتیں شریک تھیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں ایک لاکھ مسلمان شامل تھے ۔ وہ لوگ اس قسم کا نعرہ لگا رہے تھے : ہم سے جو ٹکرائے گا ، مٹی میں مل جائیگا۔ یہ واقعہ ۱۹۶۹ کا ہے۔ اس کا رد عمل ہندوؤں پر ہوا۔ انھوں نے سوچا کہ آتشزدگی کا واقعہ تو فلسطین میں ہوا ہے پھر مسلمان یہاں کیوں اس قسم کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ دونوں طرف سے کشیدگی بڑھی اور اس کی بنا پر معمولی واقعات بھی اشتعال کا سبب بننے لگے ۔ کالو پور محلہ میں ایک ٹھیلہ پر کتابیں لدی ہوئی تھیں ۔ ٹریفک پولیس نے ٹھیلہ کو ہٹانا چاہا ۔ اس میں کچھ کتا بیں گر گئیں ۔ ٹھیلہ والے نے شور مچایا کہ اس میں قرآن تھا اور پولیس والوں نے قرآن کی بے حرمتی کی ہے۔ پولیس والوں نے معافی مانگی مگر مسلمانوں کا جوش ٹھنڈا نہیں ہوا۔ اس کے بعد جمال پور محلہ میں کچھ گائیں تھیں ۔ مسلمان ان کو بھگانے لگے۔ اس میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں تکرار ہوگئی ۔ کچھ مسلمانوں نے وہاں جنگناتو مندر پر پتھر پھینک دیا۔ ہندوؤں میں خبر پھیل گئی کہ مسلمانوں نے جنگنا تھ مندر پر حملہ کر دیا ہے۔ اس افواہ نے کشیدگی کو آخری حد تک پہنچا دیا۔ چنانچہ فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا ۔ اس میں یکطرفہ طور پر مسلمانوں کا جانی اور مالی نقصان ہوا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader