Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

احمد آباد کے فساد کی رپورٹ اخبار میں چھپی تو تمام مسلم رہنما ایک ہی بولی بول رہے تھے۔ اور وہ تھا پولیس کو اور ہندو فرقہ پرستوں کو برا کہنا۔ کسی نے بھی اس نادانی کا ذکر نہیں کیا جو اس معاملے میں مسلم رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں مسلمانوں نے کی۔ ۲۱ اپریل ۱۹۹۳ مولانا شکیل احمد قاسمی (میرٹھ) نے بتایا کہ اعظم گڑھ کے شفیق احمد صاحب جو اس وقت جلال آباد کے مدرسہ میں کام کرتے ہیں، وہ اس سے پہلے اعظم گڑھ کے ایک پرائمری اسکول میں پڑھ رہے تھے۔ ایک روز کلاس کے طلبہ کو ہندو ماسٹر نے مارا، کیوں کہ حساب کا پر چہ سب نے غلط کیا تھا۔ یہ روزہ کا مہینہ تھا۔ ہندو ماسٹر کو خیال ہو کہ شفیق ایک مسلمان لڑکا ہے، شاید وہ روزہ سے ہو۔ چنانچہ ماسٹر نے شفیق صاحب کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تم نے روزہ رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ اس کے بعد ہندو ماسٹر رونے لگا۔ اس نے کہا کہ شفیق مجھے معاف کر دو، آج میں نے نہایت پاپ کا کام کیا کہ روزہ کی حالت میں تم کو مارا۔ ۱۹۴۲ سے پہلے ہندوستان میں دونوں فرقوں کے درمیان اسی قسم کے تعلقات تھے۔ لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔ ایک دوسرے کی عزت لوگوں کے دلوں میں تھی۔ مگر تقسیم ملک کی تحریک چلا کر حالات کو آخری حد تک بگاڑ دیا گیا۔ تقسیم کی تحریک کا مطلب ہندو قوم کے سیاسی اور مادی مفاد سے ٹکرا نا تھا، اور جب بھی کسی شخص یا قوم کے سیاسی اور مادی مفاد کو چیلنج کیا جائے تو ہر جگہ وہی صورتحال پیش آئے گی جو ہندوستان میں پیش آئی۔ سعودی عرب میں شیخ عبد العزیز بن باز، شام میں مفتی گفتارو، مصر میں شیخ الازہر نہایت سکون سے دین کی خدمت کر رہے ہیں۔ جبکہ انھیں ملکوں میں "اسلام پسند" افراد یا تو جیلوں میں ہیں یا انھیں گولی مار دی گئی۔ اس فرق کی وجہ یہی ہے کہ مذکورہ شیر رخ حکمرانوں کے سیاسی مفاد سے نہیں ٹکراتے جبکہ نام نہاد اسلام پسند اٹھتے ہی حکمرانوں کے سیاسی مفاد سے ٹکراتے۔ آج اچاریہ منی سوشنیکمار کا انتقال ہو گیا۔ وہ ۱۹۲۶ میں گول گاؤں میں پیدا ہوئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page