Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

پیش کے ہیں، اس میں یہ بھی شامل ہے کہ مسلمان اب اجودھیا ایشو کو چھوڑ دیں۔ مگر آپ ایسا کیوں کر کہہ سکتے ہیں جب کہ شرعی مسئلہ یہ ہے کہ مسجد ایک بار جہاں بنا دی جائے وہ ہمیشہ مسجد ہی رہے گی۔ میں نے کہا کہ تین نکاتی منارمولے کا تعلق مسجد سے نہیں ہے بلکہ مسلمان سے ہے۔ یہ منارمولا مسجد کا شرعی حکم ، بنے کے لئے نہیں وضع کیا ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ بتاتا ہے کہ موجودہ قسم کی صورت میں مسلمان کے رویہ کے بارہ میں شرعی حکم کیا ہے، وہ مسلم رویہ کا شرعی بیان ہے نہ کہ مسئلہ مسجد کا شرعی بیان۔ ۱۲ فروری ۱۹۹۳ آج ٹائمس آف انڈیا میں مشہور قانون داں اور رائٹر مسٹر نانی پالکھ والا کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے سب سے اچھے الفاظ میں میرے تین نکاتی منارمولا کی حمایت کی ہے۔ اس طرح کے اور بھی بہت سے غیر مسلم صاحبان کے مضامین ہندی اور انگریزی پریس میں چھپ چکے ہیں۔ تین نکاتی منارمولا حقیقہ مسلمانوں کے تحفظ کے لئے ہے تاکہ ان کے لئے مستقبل کی تعمیر کا راستہ کھل سکے۔ مگر عجیب بات ہے کہ غیر مسلموں میں تو بہت بڑے پیمانہ پر لوگ پر جوش طور پر اس کی تائید کر رہے ہیں۔ مگر مسلمانوں میں کوئی بھی قابلِ ذکر آدمی ایسا نہیں نکلا جو کھل کر اس کی تائید کرے۔ بلکہ مسلمانوں کی معروف شخصیتیں اس کو رد کرنے کے لئے کھڑی ہوگئیں۔ مثلاً مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اپنے ایک انٹرویو میں میرے تین نکاتی منارمولا کو مکمل طور پر ڈس مس کر دیا ہے۔ (اسٹیٹس مین ۵ فروری ۱۹۹۳) ۱۲ فروری ۱۹۹۳ نانا جی دیش مکھ نے ایک سیاسی قصہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ ایک کانگریسی لیڈر جو کہ وزیر زراعت تھے، ان کا الیکشن ہونے والا تھا۔ وہ اپنے انتخابی علاقہ میں آئے اور سرکٹ ہاؤس میں ٹھہرے۔ اپوزیشن کے آدمی نے نہایت خاموشی کے ساتھ ایک تند بیر کی۔ یہ موسم وہ تھا جب کہ جو اور گیہوں کی فصل لگی ہوئی تھی اور بالیں نکل آئی تھیں ۔ اس نے ایک کھیت سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page